ٹرمپ کی ٹیرف میں مزید اضافے کی دھمکی؛ بوکھلاہٹ کے شکار بھارت کا ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف میں مزید اضافے کی دھمکی پر بھارت کا بیان سامنے آگیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت نے امریکی صدر کی ٹیرف میں اضافے کی نئی دھمکی کو قومی مفادات کے منافی غیر منصفانہ اور غیر معقول فیصلہ قرار دیا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ روس سے پیٹرول کی درآمدات کا مقصد یوکرین جنگ کے بعد بدلتے ہوئے عالمی حالات میں توانائی کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ روس سے پیٹرول خریدنا بھارتی عوام کے مفاد میں بھی تھا اور بھارتی حکومت نے ملکی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بھی روس سے پیٹرول خریدنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ترجمان بھارتی وزارت خارجہ نے یاد دہانی کروائی کہ 2022 میں یوکرین جنگ کے بعد روسی تیل پر مغربی پابندیاں لگیں اور یورپ نے روسی توانائی کی خریداری کم کر دی تو بھارت نے امریکا سمیت کئی مغربی طاقتوں کی حوصلہ افزائی پر روس سے درآمدات شروع کیں تاکہ عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام رہے۔
خیال رہے کہ ٹرمپ کے مزید ٹیرف عائد کرنے کے جارحانہ اور دوٹوک اعلان پر بھارتی وزیراعظم مودی نے تاحال چپ سادھی ہوئی جو ٹرمپ کو اپنا قریبی دوست کہتے نہیں تھکتے تھے۔
مودی کی اس پُراسرار خاموشی کو ناقدین اور اپوزیشن رہنما ناکامی تسلیم کرنا قرار دے رہے ہیں۔
جیسا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت اپنے جارحانہ عزائم کے باعث دنیا میں تنہا رہ گیا تھا اور اسے پاک فضائیہ کے ہاتھوں رافیل طیاروں کا نقصان بھی اُٹھانا پڑا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔