امریکا کی نظر التفات کوئی پہلی بار نہیں
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
امریکا بہادرکی ہم پر حالیہ نظر التفات کوئی انہونا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ ہم پرکئی بار محبت، شفقت، عنایت اور مہربانی کی بارشیں کرچکا ہے، اسے جب جب ہم سے کوئی کام نکلوانا ہوتا ہے وہ ہم سے اچانک یونہی محبت و شفقت کا رویہ اختیارکرنے لگتا ہے، البتہ اس بار جو بڑا فرق یہ نظر آرہا ہے وہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ اس کا معاندانہ رویہ ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔
خود انڈیا والے بھی حیران و ششدر ہیں کہ یہ کیا ہوگیا ہے؟ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرنے والی بھارتی حکومت اور اس کے وزیراعظم نریندر مودی بھی سکتے کے عالم میں اس امریکی رویے سے حیران و پریشان ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جیت پر واشنگٹن کی یاترا کرتے ہوئے انھوں نے جس مسرت و شادمانی کا اظہار کیا تھا اور ٹرمپ کے لیے بڑے تحسین آمیز الفاظ استعمال کیے تھے، اُن کا اثر یہ نکلا کہ ٹرمپ اپنی ہر تقریر میں بھارتی حکومت پر لعن و طعن کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
نریندر مودی کو اس وقت اپنی اپوزیشن اور عوام کے سامنے انتہائی خفت و شرمندگی کا سامنا ہے، وہ جھنجھلاہٹ کے عالم میں اس وقت کوئی بیان دینے کے قابل بھی نہیں رہے۔
ہمیں اس وقت کیا کرنا چاہیے۔ کیا امریکا کی اس اچانک کی جانے والی محبت و مہربانی پر شادیانے بجانا چاہیے یا اس کے پیچھے چھپے امریکی مفادات پرگہری نظر رکھنی چاہیے۔ ہم جیسے ملک پر امریکی مہربانیاں کچھ بلاوجہ نہیں ہوتیں۔ اس کے پیچھے ہمیشہ کوئی نہ کوئی بڑا مفاد چھپا ہوتا ہے۔ ہم ماضی میں بھی ایسی امریکی نوازشات سے مستفید ہوتے رہے ہیں جن کا خمیازہ ہمیں بعد میں بھگتنا پڑا۔
ہمیں چوکنا رہنا ہوگا۔ جنرل ضیاء کے دور میں افغانستان میں روسی مداخلت روکنے کے لیے اس نے ہم پر ایسی ہی بڑی مہربانیاں کی تھیں اور جب کام نکل گیا تو اس نے جس طرح نظریں پھیر دیں وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ اسی دور میں اس نے ہم پر اقتصادی پابندیاں بھی لگائی تھیں۔ ہمارے چالیس F-16 طیاروں کی ترسیل روک کر ہماری پہلے سے دی ہوئی بھاری رقوم بھی اس نے کئی سالوں تک روکے رکھی اور بعد ازاں اُس رقم کے بدلے ہمیں گندم لینے پر مجبورکردیا گیا۔
یہ زیادتی دنیا میں کسی ملک کے ساتھ نہیں ہوئی۔ امریکا جسے ہم اپنا دوست سمجھ کر قناعت کرتے رہے اسی امریکا نے ہمیں کئی بار دھوکے بھی دیے ہیں۔ ہماری معاشی بدحالی میں اس امریکا کا بہت بڑا ہاتھ اور کردار بھی ہے۔ وہ جب چاہتا ہے ہمیں اپنی محبت کے چنگل میں پھنسا لیتا ہے اور جب چاہتا ہے ہم پر پابندیاں میں لگا دیتا ہے۔
کبھی دہشت گرد ملکوں کی فہرست میں شامل کرکے اور کبھی فیٹیف کی گرے لسٹ میں شامل کر کے۔ کبھی CTBT میں دستخط نہ کرنے کی پاداش میں تو کبھی کم عمر بچوں سے کام لینے کے جرم میں۔ وہ جب چاہتا کسی نے کسی بہانے سے ہم پر پابندیاں لگاتا رہا ہے۔ آج اس کی یہ مہربانیاں بھی عارضی ہوسکتی ہیں۔
کل نیا آنے والا امریکی صدر یا خود ڈونلڈ ٹرمپ کیا پینترا بدل ڈالے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ ویسے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کا انداز حکومت سنجیدہ اور شائستہ نہیں ہے۔ وہ جذباتی اور عاجلانہ امیچیور فیصلے کر رہے ہیں۔ کل وہ اچانک ایک نیا فیصلہ کردیں یا اپنے انھی فیصلوں پر یوٹرن لے لیں کسی کو نہیں معلوم، لٰہذا ہمیں اپنے حق میں کیے گئے اُن کے فیصلوں پر شادیانے نہیں منانا چاہیے، بلکہ کسی بھی دوسرے مخالفانہ فیصلے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہم اپنی آنکھیں بند کرکے خود کو ایک بے اعتبار ملک امریکا کے حوالے نہیں کرسکتے جس نے ہمیں ہمیشہ دھوکا ہی دیا ہے۔
وہ ہماری خود مختاری اور خود انحصاری کا بہت بڑا دشمن ہے، وہ ہرگز نہیں چاہے گا کہ ہم ترقی و خوشحالی کی منازل طے کر کے ایک ترقی یافتہ ملک بن جائیں۔ ہمیں محتاج اور غلام بنا کر ہی وہ ہم پر اپنا حکم چلا سکتا ہے، وہ ہماری جغرافیائی حیثیت سے بھی پوری طرح واقف ہے۔ اس لیے وہ کبھی کبھار ہم پر اپنی مہربانیوں کے ڈورے ڈالتا رہتا ہے تاکہ ہم اس سے اپنا ناتا جوڑے رکھیں۔ ہماری مجبوری یہی ہے کہ فی الحال ہم اس سے دشمنی مول نہیں سکتے، لہٰذا ہمیں سوچ سمجھ کراس کی اس اچانک نازل ہونے والی محبت میں چھپی چالوں کونہ صرف سمجھنا ہوگا بلکہ موثر اور بصیرت آموز طریقے سے جواب بھی دینا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہونے
والے بینک اکاؤنٹس بند کرے۔
ٹرمپ نے 2 جون کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حکم ان بینکوں، کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدف بناتا ہے جن کے ذریعے مجرم
عناصر انسانی اسمگلنگ، منشیات کی تجارت، غیر قانونی امیگریشن اور منظم جرائم پیشہ گروہوں سے وابستہ رقوم منتقل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن اور غیر ملکی دھوکے باز ہر سال امریکی ٹیکس دہندگان سے اربوں ڈالر لوٹ لیتے ہیں۔
ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ایسے بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہوں یا جن میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو دی جانے والی سرکاری امداد رکھی جا
رہی ہو، انہیں بند، ضبط یا بحقِ سرکار تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔
President Trump announced that he has signed a new Executive Order aimed at cracking down on financial fraud and illegal immigration.
The order directs the Treasury Department to restrict banks, credit cards, and financial institutions from being used to support human smuggling,… pic.twitter.com/01rOIAWCxI
— Open Source Intel (@Osint613) June 2, 2026
صدر ٹرمپ کے مطابق وہ بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کو سہولت فراہم کرنے یا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملنے والی فلاحی امداد محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، بند کر دیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے امریکا سے باہر جانے والے اربوں ڈالر کے بہاؤ کو روکا جا سکے گا۔
محکمۂ خزانہ کی کارروائیاںوائٹ ہاؤس اور محکمۂ خزانہ کے مطابق جرائم پیشہ تنظیمیں امریکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی رقوم منتقل کرنے اور چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ نئے حکم نامے کا مقصد بینکنگ سطح پر
ان نیٹ ورکس کی رسائی ختم کرنا ہے۔
اسی تناظر میں مارچ 2026 میں محکمۂ خزانہ نے میکسیکو کے سینالوا کارٹیل سے وابستہ ایک منی لانڈرنگ نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
مزید پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع
حکام کا الزام تھا کہ منشیات فروش فینٹانائل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پہلے کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے اور پھر یہ رقوم کارٹیل کے آپریٹرز تک پہنچائی جاتیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مارچ 2026 میں کہا تھا کہ محکمۂ خزانہ دہشتگرد کارٹیلز اور ان کے فینٹانائل اسمگلنگ نیٹ ورکس کو نشانہ بناتا رہے گا۔
مسئلے کا حجمامریکی حکام کے مطابق مسئلہ کافی وسیع ہے۔ محکمۂ خزانہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس مبینہ طور پر 312 ارب ڈالر سے زائد رقوم
امریکی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کر چکے ہیں۔
حکام نے مالیاتی نظام کو مزدوروں کی اسمگلنگ سے بھی جوڑا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر بچوں کی جنس تبدیلی کے علاج پر پابندی لگا دی
اپریل 2025 میں امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای نے ریاست اوہائیو میں ایک مبینہ 126 ملین ڈالر مالیت کے غیر قانونی افرادی قوت فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ
آپریشن سے منسلک اثاثے ضبط کیے تھے۔
آئی سی ای کے مطابق اس نیٹ ورک نے تقریباً 40 فرضی کمپنیوں کے ذریعے غیر دستاویزی کارکنوں کو ملازمت اور رہائش فراہم کی، جن میں سے بہت سے افراد میکسیکو کے راستے امریکا
اسمگل کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس دوران لاکھوں ڈالر بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور لگژری اشیا کے ذریعے منتقل کیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمگلنگ نیٹ ورکس امیگریشن امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایگزیکٹو آرڈر دہشتگرد ریاست اوہائیو صدر ٹرمپ فینٹانائل کریڈٹ کارڈ محکمہ خزانہ منی لانڈرنگ وائٹ ہاؤس