Express News:
2026-07-24@03:01:16 GMT

ایشیا کپ، سلیکٹرز پیچھے مڑ کر دیکھنے پر ہچکچاہٹ کا شکار

اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT

کراچی:

ایشیا کپ سے قبل سلیکٹرز پیچھے مڑ کر دیکھنے کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں،فخرزمان کے انجرڈ ہونے پر بابر اعظم کی واپسی کیلیے صدائیں بلند ہونا شروع ہو چکیں، البتہ سلیکشن کمیٹی ذرائع کے مطابق ابھی اس حوالے سے کوئی بات ہوئی نہ ہی فخر کا ایونٹ میں حصہ نہ لینا یقینی ہے.

تفصیلات کے مطابق  دورئہ ویسٹ انڈیز میں تیسرے ٹی 20 سے قبل  فخر زمان انجرڈ ہوکر وطن واپسی پر مجبور ہو گئے، وہ ون ڈے سیریز میں بھی حصہ نہیں لے سکیں گے، گوکہ ابھی  یہ واضح نہیں کہ وہ کب تک فٹ ہوں گئے لیکن ابھی سے بابر اعظم کے چاہنے والے ان کی واپسی کیلیے آوازیں اٹھا رہے ہیں.

 

البتہ ذرائع  کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا فی الحال یقینی نہیں، اب تک ایشیا کپ میں بابر کی واپسی کے حوالے سے کوئی بات ہوئی نہ ہی کسی کی جانب سے کوئی ہدایت دی گئی  ہے،ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فخر ایونٹ سے باہر ہو گئے ہیں، ان کی بحالی فٹنس کا کام جاری ہے، بابر پر ٹی 20 اسکواڈ کے دروازے کھلے ہیں،اگر فخر دستیاب نہ ہوئے تو ان کی واپسی پر غور ممکن ہوگا۔ 

دورہ ویسٹ انڈیز کے بعد میٹنگ میں معاملات کا جائزہ لیا جائے گا، ورلڈکپ 2024 میں بابر کی زیر قیادت قومی ٹیم کی کارکردگی انتہائی غیرمعیاری رہی تھی، اس کے بعد پی سی بی نے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کو متواتر مواقع دینے کی پالیسی اپنائی۔

حکام کو خدشہ ہے کہ سابق کپتان کی واپسی سلمان علی آغا پر غیرضروری پریشر ڈال سکتی ہے،البتہ بعض حلقے بھارت سے میچز کو دیکھتے ہوئے ٹیم میں بابر کو شامل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ بابر اعظم آخری بار دسمبر 2024 میں جنوبی افریقہ  کیخلاف ٹی 20 میچ کھیلتے نظر آئے تھے، انھوں نے اپنے آخری 10 میچز میں26 کی اوسط سے 236 رنز بنائے جس میں کوئی نصف سنچری شامل نہیں تھی،آخری5 میں سے 3 میچز میں وہ ڈبل فیگر میں بھی داخل نہیں ہو سکے تھے، انھوں نے آخری بار ورلڈکپ 2024 میں قیادت کی تھی۔

دوسری جانب 31 سالہ سلمان علی آغا نے نومبر 2024 میں محمد رضوان کی زیرقیادت ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو کیا تھا، اسی سیریزکے تیسرے میچ میں رضوان کی عدم موجودگی میں وہ بطور کپتان میدان میں اترے تھے مگر ٹیم ناکامی کا شکار ہوئی۔

سینئرز کے عدم موجودگی میں سلمان کی زیر قیادت دورہ زمبابوے میں گرین شرٹس نے 1-2 سے فتح حاصل کی، پھر نیوزی لینڈ میں 4-1 سے مات ہوئی، رواں برس بنگلہ دیش کو ہوم گراؤنڈ پر تینوں میچز میں ہرایا جبکہ جوابی دورے میں 2-1 سے ناکامی ہوئی، اب اسی مارجن سے ویسٹ انڈیز میں کامیابی حاصل کی۔ 

کیریئر کے 20 میں سے 18 میچز سلمان نے بطور کپتان ہی کھیلے ہیں، مختصر طرز میں انھوں نے اب تک 380 رنز بنائے جس میں تین ففٹیز شامل ہیں، چار وکٹیں بھی ان کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی واپسی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن