پارلیمنٹ ہاؤس پر بھاری نفری تعینات، اہم گرفتاریاں متوقع
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی دارالحکومت میں پارلیمنٹ ہاؤس کا مرکزی دروازہ بند کردیا گیا، پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ اندر ہی محصور ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس دوران قومی اسمبلی میں یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے ایک قرارداد بھی منظور کی گئی۔
پی ٹی آئی کے ارکان نے قومی اسمبلی میں خطاب کے بعد اڈیالہ جیل جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ دورانِ اجلاس اپوزیشن ارکان نے خطاب بھی کیا اور پی ٹی آئی کے ساتھ ناروا سلوک کی شکایات کے ساتھ ساتھ بات کا موقع نہ ملنے کی شکایت بھی کی، جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وزیر امور کشمیر کی مسئلہ کشمیر پر قرارداد سن لیں۔
پی ٹی آئی رکن عامر ڈوگر نے کہا کہ آپ نے ہمارے اراکین کو 10، 10 سال سزا دے دی، اگر سب کو باہر پھینک دیا تو یہ کہاں کا ایوان رہ گیا، 10 اراکین اس ایوان سے اٹھائے گئے آپ نے ایکشن نہیں لیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یہ بتائیں میں نے پروڈکشن آرڈر جاری کیا یا نہیں۔
اسمبلی اجلاس کے بعد اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزائی، سلمان اکرم راجا اور لطیف کھوسہ اڈیالہ جیل کے لیے روانہ ہو گئے جہاں پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے احتجاج کیا جانا تھا جب کہ باقی ارکان پارلیمنٹ ہاؤس ہی میں موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے کچھ ارکان نے اڈیالہ جیل نہ جانے کا مشورہ بھی دیا۔
اسی صورت حال کے دوران ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کا مین گیٹ چین اور تالا لگا کر بند کر دیا گیا ہے اور پولیس کی بھاری نفری پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر موجود ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اراکین کی گرفتاری کا امکان ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے جب کہ پولیس کی قیدی وینز اور اینٹی رائٹ دستے بھی پارلیمنٹ کے باہر پہنچا دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کی اپوزیشن لابی میں پی ٹی آئی کے 30 سے زائد اراکین موجود ہیں، جہاں باہر نکلنے کے لیے مشاورت کا عمل جاری ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دریں اثنا پی ٹی آئی چیف وہپ عامر ڈوگر ، علی محمد خان ، شہریار آفریدی، ثنا اللہ مستی خیل سپیکر آفس پہنچ گئے ، جہاں وہ پارلیمنٹ ہاؤس کا گیٹ کھلوانے کا مطالبہ کریں گے۔
پی ٹی آئی وفد اسپیکر کے چیمبر پہنچ گیا، گیٹ کھوالنے کا مطالبہ
پی ٹی آئی ایم این ایز کا وفد اسپیکر سے مذاکرات کے لیے ان کے چیمبر میں پہنچا۔ وفد میں چیف وہپ عامر ڈوگر، شہریار آفریدی، علی محمد خان اور ثنااللہ مستی خیل شامل تھے۔
علی محمد خان نے کہا کہ اس وقت پارلیمنٹ کے تمام دروازے بند کر دیے گیے ہیں، ہم اسپیکر سے بات کرنے آئے ہیں کہ وہ اس ہاؤس کے کسٹوڈین ہیں۔
عامر ڈوگر نے کہا کہ ہم نے اڈیالہ جیل جانا ہے ہمیں جانے سے نہ روکا جائے، یہ فسطائیت ہے بہت جلد ختم ہوجائے گی۔
پی ٹی آئی وفد نعرے بازی کرتے ہوئے مرکزی گیٹ کی جانب روانہ ہوگیا۔ پی ٹی آئی اراکین پارلیمنٹ کو مین گیٹ پر روک لیا گیا۔ اسلام آباد پولیس کی نفری گیٹ کے باہر اور اندر موجود ہے، پی ٹی آئی ایم این ایز عامر ڈوگر کی قیادت میں نعرے بازی کرتے رہے۔
پی ٹی آئی اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کی۔ عامر ڈوگر نے کہا کہ دو سال قبل پانچ اگست کے دن بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کیا گیا تھا، آج پی ٹی آئی کے کارکنان ملک بھر میں احتجاج کررہے ہیں، آج ہم لوگ انصاف کے لیے در بدر پھر رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کی اپیل بھی نہیں سنی جا رہی، اپوزیشن قومی اسمبلی اور سینیٹ کو سزائیں سنا دی گئیں۔
انہوں ںے کہا کہ آج بانی پی ٹی آئی ایک تحریک کا نام ہے، ہم ہر ظلم کا مقابلہ نظریے سے کریں گے، آج ہم پارٹی ہدایات کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود تھے، ہمیں آج یہاں بلایا گیا تھا کہ احتجاج کریں، آج اسپیکر قومی اسمبلی نے شیخ وقاص اکرم کے خلاف تحریک لانے کی بات کی جو بعد میں پیش کردی گئی۔
علی محمد خان نے کہا کہ اس ملک میں سیاستدان کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں؟ اس وقت ملک میں دہشت گردی سمیت دیگر مسائل عروج پر ہیں، پارٹی کی ہدایت تھی کہ تمام اراکین پارلیمنٹ کے پی ہاؤس پہنچ جائیں، آج ہماری تمام لیڈر شپ یہاں موجود تھی، آج کشمیر کے حق میں بھی ہم نے بات کی، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، مقبوضہ کشمیر کے بعد مقبوضہ پارلیمنٹ بن گیا ہے، ہمارے ممبران کے ساتھ ظلم کیا گیا ہے، پانچ اگست ہی کے دن ہی بانی پی ٹی آئی کو کیوں گرفتار کیا گیا، گزشتہ رات اسلام آباد میں اسد قیصر کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔
شہریار آفریدی نے کہا کہ پارٹی نے کے پی سے اراکین پارلیمنٹ کو بلایا تھا، پارلیمان کو محصور کیا گیا ہے، یہ کون سا ظلم ہے جس میں اراکین پارلیمنٹ کو ذلیل کرنا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی سے احترام کا رشتہ ضرور ہے مگر آج جو ہوا وہ ظلم ہے، اراکین پارلیمنٹ کو آفر کروائی گئی نہیں مانے تو سزائیں دے دی گئیں، وقت کا تقاضا یہ ہے بانی پی ٹی آئی سے بات کی جائے۔
بعدازاں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کیبنٹ گیٹ سے روانہ ہوگئے۔ علی محمد خان اور دیگر پارلیمنٹرین کابینہ گیٹ سے باہر چلے گئے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اراکین پارلیمنٹ کو اسپیکر قومی اسمبلی پارلیمنٹ ہاؤس بانی پی ٹی آئی علی محمد خان پی ٹی آئی کے عامر ڈوگر نے کہا کہ پولیس کی کے مطابق کے باہر کے ساتھ کیا گیا کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔