پہلی اربن الیکٹرک ٹرام میں تجرباتی سفر، ’’اپنی زمین اپنا گھر پروگرام‘‘ لانچ کرنے کا اعلان، گالی گلوچ کی سیاست کارکردگی تلے دفن ہو گی: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
لاہور (نیوز رپورٹر) عوام کی انتظار کی گھڑیاں ختم، اب لاہور میں جدید ترین سپر اٹانومس ریپڈ ٹرانزٹ چلے گی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پاکستان کی پہلی اربن الیکٹرک ٹرام ’’سپر اٹانومس ریپڈ ٹرانزٹ‘‘ میں تجرباتی سفر کرکے باقاعدہ آغاز کیا۔ وزیراعلیٰ نے ایس آر ٹی ٹرام میں علی ٹاؤن سے مسلم ٹاؤن تک روڈ ٹیسٹ کی مانیٹرنگ کی۔ مریم نواز نے ایس آر ٹی کا معائنہ کیا اور موجود سہولتوں کا جائزہ لیا۔ ایس آر ٹی کے ٹیسٹ ڈرائیو کا بھی جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ عام ٹریفک کے درمیان ایس آر ٹی کی رننگ چیک کی۔ رائیونڈ روڈ اور کینال روڈ پر عوام وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ایس آر ٹی ٹرام میں سفر کرتے دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے رہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ’’سپر اٹانومس ریپڈ ٹرانزٹ‘‘ترکیہ، چین، ابو ظہبی اور دیگر ممالک میں کامیابی سے چلائی جارہی ہے۔ ’’سپر اٹانومس ریپڈ ٹرانزٹ‘‘ میں تین بوگیاں لگائی گئی ہیں جبکہ چار کی گنجائش ہے۔ نورنکو انٹرنیشنل کی جدید ترین ایس آر ٹی میں 320 مسافروں کی گنجائش ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پہلی مکمل ای ٹرین’’سپر اٹانومس ریپڈ ٹرانزٹ‘‘ ایک دفعہ چارج کے بعد 40 کلومیٹر سفر طے کر سکتی ہے۔ ’’سپر اٹانومس ریپڈ ٹرانزٹ‘‘ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور ٹریفک میں بہتر ی آئے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کی عوام کے لئے اب ہر روز خوشی کی خبر منتظر ہوتی ہے۔ ایس آر ٹی چلنے سے لاہور کی خوبصورتی دوبالا ہوگی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ جلد ہی گوجرانوالہ اور فیصل آباد کی عوام کو بھی ایس آر ٹی کی خوش خبری ملے گی۔ بعد ازاں مریم نوا زنے اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کے لئے 50ہزار سے زائد لون مکمل ہونے پر تقریب سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب میں اپنی زمین، اپنا گھر پروگرام لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اپنی زمین، اپنا گھر سکیم کے تحت مفت پلاٹ دینے کا اعلان بھی کیا۔ مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپنی زمین، اپنا گھر سکیم کے پہلے فیز میں 2ہزار پلاٹ دیئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے اپنے گھر بنانے والے خاندانوں کو مبارکباد پیش کی۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت مخلص ہے۔ آئی جی انتظار کرتے رہے، احتجاج کے لئے کوئی نہیں آیا، لگتا ہے عقل آگئی۔ بے ہنگم شور اور گالی گلوچ والی سیاست کارکردگی کے بوجھ کے نیچے دفن ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ فساد پھیلانے والے کیا جانیں خدمت کا مزا کیا ہوتا ہے۔ پنجاب کا مقدر سازش نہیں خدمت کے ہاتھ میں ہے۔ ہر وعدہ پورا کریں گے اور قدم قدم پر خدمت کے نشان چھوڑ کر جائیں گے۔ وزیر اعظم قوم کی زندگیوں میں بہتری لارہے ہیں۔ محمد نواز شریف ہر میٹنگ میں بجلی سستی اور مہنگائی کم کرنے کا کہتے ہیں۔ نواز شریف مجھے ہر روز تلقین کرتے ہیں کہ مخلوق کی خدمت کے لئے نیت کو خالص کریں۔ پنجاب میں ترقی ہر سو نظر آنا شروع ہوگی ہے۔ پاکستان سفارتی اور معاشی محاذ پر ابھرتے ہوئے سورج کی طرح طلوع ہورہا ہے۔ پاکستان کی اکنامک آؤٹ لک بہتری کے اعشارے دے رہی ہے۔ مثبت رجحانات ہرسو نظر آرہے ہیں۔ پنجاب میں بہت سی نئی سکیمیں لارہے ہیں۔ ہر شہر میں بد ترین علاقوں میں مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ ساؤتھ پنجاب اور پوٹھوہار ریجن میں پینے کا صاف پانی مہیاکریں گے۔ 24ہزار دیہات کو ماڈل بنانا میرا عزم ہے۔ ہر گاؤں کی گلیاں، سڑکیں پکی،سکولوں اورہسپتالوں کی ری ویمپنگ اور سیوریج سسٹم وغیرہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجا ب میں ہر شہر کے لئے 1100ای بسیں آرہی ہیں۔جہاں مرضی جائیں الیکٹرک بس کا کرایہ صرف 20روپے ہی ہوگا۔ لاہور میں جنوبی ایشیا کی پہلی ایس آر ٹی ٹرین لارہے ہیں۔ لاہور کی عوام کو 20روپے میں عزت کی سواری ملے گی۔پنجاب کے ہر شہر کے لئے ای بسیں آئیں گی کیونکہ ہر شہر اور ہر شہری برابر ہیں۔ جرائم پیشہ لوگ خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوکر جرم نہ کرنے کا عہد کر رہے ہیں۔ مزدوروں کو 13لاکھ راشن کارڈ دے رہے ہیں۔ پنجاب کے 19 شہروں میں بے زمین لوگوں کو پلاٹ اور گھر بنانے کے لئے قرض دیں گے۔ حکومت پنجاب ہر روز نیا پراجیکٹ لانچ کررہی ہے۔ اپنی چھت، اپناگھر میرے دل کے بہت قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کوئی کرایہ نہ دینے پر گھر سے نہیں نکالا جاسکے گا۔اپنی چھت، اپنا گھر سو فیصد بلاسود قرض ہے، 9 سال میں واپس کرنا ہے۔ اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کی اصرار کرکے ماہانہ قسط15ہزار سے کم کروائی۔ اپنی چھت، اپنا گھرپراجیکٹ کے تحت ہر شخص باآسانی 15ہزار ماہانہ ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ٹیم کے ساتھ ملکر کر بہت محنت کے ساتھ اپنی چھت، اپنا گھر کا ماڈل تشکیل دیا۔ اکتوبر نومبر میں پراجیکٹ لانچ کیا، 45ہزار گھر بن رہے ہیں، 9 ہزار گھر مکمل ہوچکے ہیں۔میرا بس چلتا تو گھر بنانے والے ہر خاندان کو خود جا کر مبارکباد پیش کرتی۔ اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ میں شفافیت کے لئے 60سے 70ہزار لوگوں کو کالیں کی گئی۔ اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کے بارے میں 95 فیصد لوگوں کی فیڈ بیک اطمینان بخش رہی۔ اپنی چھت، اپنا گھر اجیکٹ سے متعلق روزانہ کالیں سنتی ہوں۔ یہ 64ہزار گھر نہیں بلکہ ہزاروں کہانیاں اور داستانیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگست کے آخر تک قرضوں کا اجراء 64سے 75ہزار تک پہنچ جائے گا۔ ایک سال میں ایک لاکھ اور پانچ سال میں پانچ لاکھ گھر بنانے کا ہدف پورا کریں گے۔اپنی چھت،ا پنا گھر پراجیکٹ کے تحت تقریباً25 لاکھ لوگ مستفید ہوں گے۔ نواز شریف اور شہبازشریف نے بھی اپنے دور میں گھر بنائے اور لوگوں کو دیئے۔ سرکاری طور پر فی گھر بنا کر دینے کا تخمینہ 40 لاکھ روپے تھا جو عام آدمی کے لئے مشکل تھا۔ انہوں نے کہا کہ دل دہلا دینے والی داستانیں سن کر فرط جذبات سے آنسو آگئے۔ دنیا بھر میں اپنی چھت، اپنا پراجیکٹ کی مثال دی جائے گی۔ پبلک سیکٹر میں ہاؤسنگ کے کسی پراجیکٹ کی ایسی مثال نہیں ملتی۔ محمد نواشریف صاحب نے لوگوں کو خود چیک دیکر اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کا آغاز کیا۔ اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے…… پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے۔ حوصلہ افزائی کرنے پر قائد محمد نوازشریف کا شکرایہ ادا کرتی ہوں۔ عوام گواہ ہے کسی کو قرض کے لئے سفارش یا رشوت کی ضرورت نہیں پڑی۔ کوئی گھر رشوت یا سفارش سے نہیں بنا، آپ سر اٹھا کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ میرا گھر ہے۔ اپنی چھت، اپناگھر پراجیکٹ کی ہر سٹوری پر میری نظر ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو دوسروں کے گھروں کی اینٹیں اٹھاتے تھے، آج اپنے گھرکی اینٹیں لگارہے ہیں اور چابیاں اٹھارہے ہیں۔ میں نے دیکھا میاں بیوی بچوں سمیت خود ملکر اپنے گھر کے لئے محنت کررہے ہیں۔ میں نے عوام کو اپنی چھت دینے کا وعدہ کیا، وعدہ نبھایا اور عوام نے بھی ہزار ملین روپے اقساط واپس کرکے عہد نبھایا۔ خوشی ہے عوام کے کسی کام آسکی، لوگوں کی دعائیں میرا اثاثہ ہیں۔ ایک کروڑ گھر بنانے کا دعو یٰ فائلوں سے باہر نہ نکل سکا۔ اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کے لئے 15 لاکھ رجسٹریشن اور 7 لاکھ درخواستیں آچکی ہے۔ اب لوگوں کو اعتبار ہے کہ میرٹ پر لون ملے گا۔ حیران ہوں ایک دن قرضہ ملا اور تین ہفتے بعد گھر بن رہا ہوتا ہے۔ ہم نے بغیر دعویٰ کیے ہزاروں گھر بنا دیئے۔ ریاست کو ماں کا قرار ادا کرنا چاہیے۔ میرے لیے گورننس کا ماڈل یہ ہے کہ لوگوں کے گھروں پر دستک دیکر سروسز مہیا کی جائیں۔ میں نے آئی جی صاحب کو کہا ہے کہ لوگوں کی داد رسی کے لئے موبائل پولیس سٹیشن لانچ کریں۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں بند کی جانے والے فری ادویات اب دوبارہ ملی رہی ہیں۔ ہارٹ، کینسر، ہیپاٹائٹس اور ٹی بی کے مریضوں کو گھر کی دہلیز پر ادویات مل رہی ہیں۔ ٹائپ ون ذیابیطس مریض بچوں کو بھی گھر کی دہلیز پر ادویات دے رہے ہیں۔ پنجاب بھر میں کلینک آن ویلز گھر کی دہلیز پر علاج کی سہولتیں فراہم کررہے ہیں۔ ریاست اور عوام درمیان اعتماد کی کمی کو پورا کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ لوگوں نے زندگی بھر کمائی کرکے یا زیور بیچ کر پلاٹ لیے۔ بلا سود قرضہ ملاتو گھر بنا لیا۔جن کے پاس زمین ہے نہ گھر ان کے لئے اپنی زمین، اپنا گھر سکیم لارہے ہیں۔ پارٹی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر اپلائی کرنے والے ہرفرد کو میرٹ پر قرضے ملے۔ لاہور کو پنجاب سمجھنے کی بات غلط ہے ہر ضلع میں اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کے تحت مکان بن رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں مزید گھر بنانا چاہتی ہوں۔ اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کے تحت سالانہ ڈیڑھ لاکھ گھر بنانا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اوروسائل دے تو سب عوام پر نچھاور کر دیں۔عوامی فیڈ بیک سے آگاہ کرنے پر امجد حفیظ اور ایس ایم یوکا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ دوسری جانب شاہدرہ میں کرنٹ لگنے سے 4افراد کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سوگوار خاندان سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ مریم نواز شریف نے پاکستانی طلبہ کو انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف نے انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ کے تحت پراجیکٹ کی لارہے ہیں ایس ا ر ٹی گھر بنانے اپنی زمین لوگوں کو اپنی چھت گھر بنا کریں گے کرنے کا رہے ہیں کے لئے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔