کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کو متروکہ املاک پر پراپرٹی ٹیکس نوٹسز دینے سے روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے متروکہ املاک پر کنٹونمنٹ بورڈ کو پراپرٹی ٹیکس نوٹسز دینے سے روک دیا۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کو نوٹس بھی جاری کر دیا۔
وکیل متروکہ املاک حافظ احسان نے دلائل دیئے کہ متروکہ املاک پراپرٹیز وفاقی حکومت کی ملکیت ہیں، وفاقی حکومت پر کنٹونمنٹ بورڈ پراپرٹی ٹیکس نہیں لگا سکتا اور آئین واضع ہے وفاقی حکومت کی پراپرٹی پر ٹیکس کوئی دوسرا ادارہ نہیں لگا سکتا۔
پشاور میں تہرے قتل کی واردات، 2 خواتین سمیت 3 افراد تیز دھار آلے سے قتل
عدالت نے وکیل کے دلائل سننے کے بعد ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے کنٹونمنٹ بورڈ کو متروکہ وقف املاک پر پراپرٹی ٹیکس نوٹسز دینے سے روک دیا اور آئندہ سماعت تک کنٹونمنٹ بورڈ کو ٹیکس وصولی سے باز رہنے کا حکم دے دیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کنٹونمنٹ بورڈ پراپرٹی ٹیکس املاک پر
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔