ہیلتھ کیئر کمشن کو پرائیویٹ لیب کی ٹیسٹ قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار ہے: ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) ہیلتھ کیئر پر کیس کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ پرائیویٹ لیب اور صحت کے اداروں کی خدمات کی قیمت طے کرنے کا اختیار پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو ہے۔ پنجاب میں تشخیصی لیبارٹریاں اور صحت کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے خرچ کا صرف 20 فیصد منافع ہی لے سکتے ہیں۔ جسٹس راحیل کامران نے کہا کہ صحت کی خدمات کو کمرشل اشیاء کی طرح قرار نہیں دیا جا سکتا۔ صحت کی خدمات کا براہ راست تعلق انسان کی زندگی کے حق سے ہے جس کی ضمانت آئین میں دی گئی ہے۔ معیاری طبی مدد سے انکار سے ایک مہذب معاشرے کی بنیادی خصوصیت کی نفی ہوتی ہے۔ ریاست صحت کے شعبے میں کام کرنے والے نجی اداروں کی فراہم کردہ خدمات کی نگرانی کا بھی اختیار رکھتی ہے۔ حکومت ایسے انداز میں نگرانی کرے کہ کوئی ناجائز منافع خوری کر کے عوام کا استحصال نہ کر سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی خدمات
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔