WE News:
2026-06-03@05:44:57 GMT

بحریہ ٹاؤن کے خلاف ملک بھر میں کون سے مقدمات زیر سماعت ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT

بحریہ ٹاؤن کے خلاف ملک بھر میں کون سے مقدمات زیر سماعت ہیں؟

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آج نیب کو بحریہ ٹاؤن کی سات جائیدادیں نیلام کرکے ریکوری کرنے کی اجازت دے دی۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان جائیدادوں کی نیلامی سے متعلق اپنا حکم امتناع خارج کردیا۔

نیب کے مطابق ملک ریاض اور علی ریاض نے 190 ملین پاؤنڈ مقدمے کی حد میں طے شدہ پلی بارگین ادا نہیں کی۔ بحریہ ٹاؤن جائیدادوں کی فہرست میں راولپنڈی اسلام آباد کے اہم پلاٹس شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا بحریہ ٹاؤن سرمایہ کاری کے لیے اب بھی محفوظ ہے؟

جون کے شروع میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین مختلف ٹیکس مقدمات میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف اور ایف بی آر کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بحریہ ٹاؤن سے 26.

446 ارب وصول کرنے کا حکم دیا اور اس کے علاوہ دو کارپوریٹ مقدمات میں 9.7 ارب روپے بھی وصول کرنے کا حکم دیا۔

تخت پڑی جنگلات کی زمین پر قبضے کا مقدمہ

راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے 18 مارچ 2025 کو عدالت سے مسلسل غیر حاضری کی بنیاد پر ملک ریاض اور اُن کے بیٹے علی ریاض کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ یہ مقدمہ موضع تخت پڑی میں جنگلات کی زمین پر قبضے سے متعلق ہے جس میں سپریم کورٹ یہ قرار دے چُکی ہے جنگلات کی زمین بحریہ ٹاؤن کو دینا غیر قانونی تھا۔ اس معاملے میں نیب کی تفتیش اور عدالتی کارروائی ابھی جاری ہے۔

بحریہ ٹاؤن کے خلاف کراچی میں زیر التوا مقدمات

بحریہ ٹاؤن کے خلاف کراچی میں بھی متعدد مقدمات مختلف عدالتوں میں زیرِسماعت ہیں۔

یکم جون کو کراچی کی ایک احتساب عدالت نے ملک ریاض، ان کے بیٹے علی ریاض اور داماد زین ملک کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ یہ مقدمہ بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے سرکاری زمین پر قبضے سے متعلق ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر کیے جانے والے سروے میں انکشاف ہوا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے پاس معاہدے کے مطابق 16 ہزار 896 ایکڑ زمین ہونی چاہیے تھی، لیکن اس کے پاس قریباً 19 ہزار 931 ایکڑ تھی، یعنی اُنہوں نے 3 ہزار 31 ایکڑ زیادہ قبضہ کر رکھا ہے۔

بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے اس زمین کا سروے رکوانے کی درخواست سندھ ہائیکورٹ میں زیرِالتوا ہے جس کی اگلی سماعت 28 اگست کو ہوگی۔

بحریہ ٹاؤن کراچی ہی کے حوالے سے سپریم کورٹ نے مارچ 2019 میں بحریہ ٹاؤن کو 460 ارب روپے جرمانہ کیا لیکن عدم ادائیگی کے باعث نیب ریفرنس پر سماعت جاری ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ التوا مقدمات

لاہور ہائیکورٹ میں بحریہ ٹاؤن اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مابین زمین کی الاٹمنٹ، بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پر کئی مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بحریہ ٹاؤن انتظامیہ منی لانڈرنگ میں ملوث، ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا گیا، عطااللہ تارڑ

پشاور ہائیکورٹ میں مقدمات

پشاور ہائیکورٹ نے گزشتہ سال نومبر میں بحریہ ٹاؤن کی ایف آئی آر ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔ پشاور کے متھرا پولیس اسٹیشن میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف این او سی کے بغیر ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بحریہ ٹاؤن ٹیکس مقدمات جائیدادیں نیلامی علی ریاض مقدمات زیرسماعت ملک ریاض وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بحریہ ٹاؤن ٹیکس مقدمات جائیدادیں نیلامی علی ریاض مقدمات زیرسماعت ملک ریاض وی نیوز بحریہ ٹاؤن کے خلاف ہائیکورٹ میں ہائیکورٹ نے بحریہ ٹاو ن میں بحریہ ن کے خلاف ملک ریاض علی ریاض

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی