راولپنڈی: پانی کی پائپ لائن چوری کرنے والے ملزمان رنگے ہاتھوں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
راولپنڈی میں پانی کی فراہمی کو متاثر کرنے والے پائپ چوروں کو واسا کی ٹیم نے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔
واسا راولپنڈی کے مینیجنگ ڈائریکٹر محمد سلیم اشرف کی ہدایت پر واسا کی مختلف ٹیموں نے کھنہ پل سے کرال چوک تک واسا کی مین لائن سے پائپ چوری کرنے والے ملزمان محمد عباس اور کباڑیہ ذر سید کو گرفتار کیا۔
محمد عباس گزشتہ ایک ہفتے سے مختلف مقامات سے پائپ چوری کر رہا تھا، جس کی وجہ سے گلزار قائد، فیصل کالونی اور منگرال ٹاؤن میں پانی کی سپلائی متاثر ہوگئی تھی۔
شکایت ملنے پر ایم ڈی واسا نے فوری نوٹس لیا اور کارروائی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں، جنہوں نے چوروں کو موقع پر پکڑ لیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے مزید قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پائپ لائن چوری پانی راولپنڈی ملزمان گرفتار وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پائپ لائن چوری پانی راولپنڈی ملزمان گرفتار وی نیوز
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔