راولپنڈی: غیر قانونی پیوندکاری کے سینٹر کا انکشاف، اسٹریچر سے بندھا ہوا شخص بازیاب
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
فائل فوٹو
راولپنڈی کے علاقے روات میں انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کے سینٹر کا انکشاف ہوا ہے۔
اس حوالے سے پولیس نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں غیر قانونی پیوندکاری کے سینٹر پر چھاپہ مار کر اسٹریچر سے بندھے ہوئے شخص کو بازیاب کرا لیا۔
پولیس کو دیکھ کر 6 افراد دیواریں پھلانگ کر فرار ہوگئے جبکہ ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ شخص نے بتایا کہ اسے نوکری کا جھانسہ دے کر بلایا گیا تھا اور اُسے نشہ آور شے پلا کر بیہوش کیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص نے بتایا کہ ملزمان اس کا گردہ نکالنا چاہتے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔