نیوکلیئر عدم پھیلاؤ کے اہداف کے حصول کے ساتھ ساتھ پرامن استعمال کے حق کی حفاظت کی جائے، چین
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
اقوام متحدہ :اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کمیٹی 1540 کے کام کا جائزہ لینے کے لیے ایک کھلا اجلاس منعقد کیا۔ یہ کمیٹی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ذمہ دار ہے۔اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب گینگ شوانگ نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری عدم پھیلاؤ کے اہداف کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پرامن استعمال کے حق کی مضبوطی سے حفاظت کرے۔گینگ شوانگ نے کہا کہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کے فوائد سے استفادہ کرنا تمام ممالک کا جائز حق ہے۔ عدم پھیلاؤ کے اہداف کے حصول کے دوران، بین الاقوامی برادری کو ترقی پذیر ممالک میں ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال پر پابندیاں ہٹانے اور پرامن استعمال میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔چینی مندوب نے مزید کہا کہ چین بڑے پیمانے پر تباہی پیدا کرنے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، بین الاقوامی عدم پھیلاؤ کے نظام کی تعمیر اور قرارداد 1540 کے نفاذ کو بہت اہمیت دیتا ہے، ہمیشہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو سختی سے پورا کرتا ہے اور بین الاقوامی عدم پھیلاؤ کے تعاون کو فعال طور پر فروغ دیتا ہے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پرامن استعمال بین الاقوامی عدم پھیلاو
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔