امریکی فوجی اڈے پر ڈیوٹی پر تعینات اہلکار کی فائرنگ سے پانچ فوجی زخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 اگست ۔2025 )امریکی ریاست جارجیا کے ایک فوجی اڈے پر ڈیوٹی پر تعینات فوجی اہلکار کی فائرنگ سے پانچ امریکی فوجی زخمی ہو گئے ہیں امریکی محکمہ دفاع کے مطابق حملہ آور کی شناخت28سالہ سارجنٹ کورنیلیس ریڈفورڈ کے نام سے ہوئی ہے جس نے اپنی ذاتی ہینڈگن سے فائرنگ کی اور اپنے ساتھی فوجیوں کو نشانہ بنایا.
(جاری ہے)
امریکی فوج کے تھرڈ انفنٹری ڈویژن کے کمانڈنگ افسر بریگیڈیئر جنرل جان لوباس نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والے پانچوں فوجیوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور ان کی حالت مستحکم ہے جنرل لوباس نے تصدیق کی کہ مبینہ حملہ آور ایک فعال ڈیوٹی سپاہی تھا اور اس نے پہلے کسی جنگی زون میں تعینات نہیں کیا تھا.
انہوں نے بہادر سپاہیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مداخلت کی اور شوٹر کو قابو کر لیا، انہوں نے کہا کہ حملہ آور کو پکڑنے والوں نے مزید نقصان کو روکا ہے رپورٹ کے مطابق بہت بڑے رقبے کی وجہ سے فوجی اڈاے کی کلیئرنس میں وقت لگا فوج اور دیگر اداروں کو خدشہ تھا کہ حملہ آور کے مزید ساتھی ہونے کی صورت میں مرکزکے دیگر علاقوں میں حملے کا خدشہ تھا تاہم مکمل تلا ش کے بعد حکام نے علاقے کو کلیئرقراردیدیا. امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق فورٹ اسٹیورٹ نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا کہ زخمی فوجیوں کو موقع پر طبی امداد دی گئی اور مزید علاج کے لیے وِن آرمی کمیونٹی ہسپتال منتقل کر دیا گیا حکام نے زخمی فوجیوں کی حالت کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں فیس بک پوسٹ میں کہا گیا کہ کمیونٹی کے لیے کوئی فعال خطرہ نہیں ہے. ریاست جارجیا کے گورنر برائن کیمپ نے ”ایکس “پر پیغام میں کہا کہ وہ اور ان کا خاندان اس حادثے سے غمزدہ ہیں وائٹ ہاﺅس کی پریس سیکرٹری کارولائن لیویٹ نے” ایکس“ پر کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شوٹنگ کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے اور وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں. حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے سروس پستول استعمال نہیں کیا بلکہ اپنے ذاتی پستول سے فائرنگ کی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ وہ اسے بیس پر کیسے لانے میں کامیاب ہوا فائرنگ کے شبے میں گرفتار 28 سالہ سارجنٹ کورنیلیئس ریڈفورڈ فورٹ سٹیورٹ میں واقع سیکنڈ بریگیڈ کامبیٹ ٹیم کا حصہ ہے حکام نے یہ نہیں بتایا کہ ریڈفورڈ کتنے عرصے سے امریکی فوج کا رکن ہے لیکن اس بات کی تصدیق کی کہ وہ کبھی بھی لڑائی کے لیے تعینات نہیں ہوئے تھے. مشتبہ شخص کو دوسرے فوجیوں نے دبوچ لیا تھا اور اب امریکی فوج کے مجرمانہ تفتیش کاروں کی طرف سے اس کا انٹرویو کیا جا رہا ہے جنرل لوباس کا کہنا ہے کہ ریڈفورڈ مقدمے سے پہلے قید میں ہے اور فوج کے مجرمانہ تفتیش کاروں کے ذریعے ا س سے تفتیش کی جارہی ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکی فوج حملہ آور ہے اور فوج کے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔