ہوا بازی سیاحت کی لائف لائن ہے، ایوی ایشن ورکنگ گروپس قائم کیے جا رہے ہیں، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
ایوی ایشن ڈے کے موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثنا اللہ کی زیر صدارت سیاحت اور ایوی ایشن سیکٹر کی ترقی کے لیے ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں گرین ٹورازم، پی آئی اے، اور دیگر اہم سرکاری و نجی شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں رانا ثنا اللہ کو لاہور اور اسکردو ایئرپورٹس کی اپ گریڈیشن سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مشیر وزیراعظم نے کہا کہ ہوا بازی، سیاحت کی لائف لائن ہے، اور پاکستان کا قدرتی حسن، ثقافتی ورثہ اور مہمان نوازی دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کشش رکھتی ہے۔
مزید پڑھیں: رانا ثنا اللہ کی مظفرآباد میں شہید ہونے والے امام مسجد کے گھر آمد، لواحقین سے تعزیت
رانا ثنا اللہ نے تجویز دی کہ قومی سرمایہ کاری فورمز میں ایوی ایشن سیکٹر کو بھی شامل کیا جائے تاکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایوی ایشن کے بنیادی ڈھانچے اور پالیسی سازی میں بہتری کے لیے ورکنگ گروپس تشکیل دیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایوی ایشن سیکٹر میں ریگولیٹری اصلاحات کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی ذمہ داری متعلقہ حکام کی ہے، تاکہ اس صنعت کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دی جا سکے۔ اجلاس میں شریک ماہرین کی سفارشات جلد وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی، جن کی روشنی میں آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایوی ایشن ورکنگ گروپس سیاحت لائف لائن ہوا بازی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیاحت لائف لائن ہوا بازی رانا ثنا اللہ ایوی ایشن کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔