حکومت کاعمران خان کی سزامیں نرمی کاعندیہ ،سابق وزیراعظم کوکیاکرناہوگا
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی رانا احسان افضل نے کہا ہے کہ اگربانی پی ٹی آئی عمران خان ماضی کے اعمال پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور تحریری معافی مانگتے ہیں تو موجودہ حکومت ان کی سزا کو کم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر سکتی ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے رانا احسان افضل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو خود سزا میں کمی کا اختیار نہیں تاہم آئینی دائرہ کار میں صدر کو حاصل اختیارات کے تحت معافی ممکن ہو سکتی ہے بشرطیکہ عمران خان باضابطہ تحریری اپیل کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور صدر کو معافی کی درخواست جمع کراتے ہیں تو امکان ہے کہ ان کی سزا میں کمی ہو سکتی ہے۔ رانا احسان افضل نے کہا کہ عدالتی کارروائی کے بعد بانی پی ٹی آئی پر الزامات ثابت ہوچکے ہیں اس لیے معافی یا معافی پر تحریری معافی کے بعد ہی غور کیا جاسکتا ہے۔
رانا احسان افضل نے مزید کہا کہ 9 مئی کے واقعات اور دیگر قانونی مسائل اپنی جگہ تاہم سیاست میں مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات کے باوجود سیاسی مفاہمت ممکن ہے لیکن بدقسمتی سے پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جو مذاکرات سے مسلسل انکاری ہے۔
Post Views: 8.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رانا احسان افضل نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔