رانا ثنا اللہ کی زیرصدارت اجلاس ،سیاحت کے فروغ اور ایوی ایشن سیکٹر کی ترقی بارے جائزہ لیاگیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 اگست2025ء)ہوا بازی سیاحت کی لائف لائن ہے،پاکستان کی قدرتی خوبصورتی، ثقافتی ورثہ، اور مہمان نوازی سیاحوں کے لئے پرکشش ہے۔ فضائی رابطوں اور دیگر اقدامات سے ملک میں سیاحت کا فروغ ممکن ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثنااللہ نے ورلڈ ایوی ایشن ڈے کے موقع پر ایک اعلی سطحی گول میز اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
وزارت بین الصوبائی رابطہ،اسلام آباد میں ایوی ایشن ڈے پر ’’ایوی ایشن سیکٹر کی ترقی اور سیاحت‘‘کے عنوان سے ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا جس میں قومی کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس، سیکرٹری آئی پی سی محی الدین احمد وانی، سیکرٹری وزارت دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)محمد علی، ایم ڈی گرین ٹورازم لیفٹیننٹ جنرل (ر)حسن اظہر حیات، سی ای او پی آئی اے ایئر وائس مارشل عامر حیات، صدر الپائن کلب میجر جنرل عرفان ارشد، اور ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس، وزارت دفاع، وزارت بین الصوبائی رابطہ، وزارت خارجہ کے ایڈیشنل و جوائنٹ سیکرٹریز، اسلام آباد ایئرپورٹ مینیجر، پاکستان ایمبیسی اسپین، ایم ڈی پی ٹی ڈی سی، گرین ٹورازم کے ڈائریکٹر پالیسی، وزارت منصوبہ بندی اور بی آئی او کے نمائندگان، اور این ایل سی ایوی ایشن، اسٹار ایوی ایشن، شنگریلا، اے کے ایف، ایف ڈبلیو او، عسکری ایوی ایشن، پیٹرونیٹ، پی اے ٹی او، پرنسلی جیٹس، ٹی اے اے پی، ایئر بلیو، ایرو ورلڈ سمیت دیگر سینئر سرکاری و نجی شعبے کے ماہرین نے شرکت کی۔(جاری ہے)
اس موقع پر وفاقی سیکرٹری برائے بین الصوبائی رابطہ، محی الدین احمد وانی نے سیاحت کے فروغ میں ایوی ایشن کے اہم کردار پر روشنی ڈالی اور کلیدی اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لیے گرین ٹورازم کی کوششوں کو سراہا۔ اس کے بعد ایم ڈی گرین ٹورازم لیفٹیننٹ جنرل (ر)حسن اظہر حیات نے اجلاس کے مقاصد بیان کیے، جن میں ایوی ایشن کی استعداد بڑھانے اور سیاحتی رابطہ کاری میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کی نشاندہی شامل تھی۔سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے اپنی اپنی ذمہ داریوں سے متعلق پیش رفت پر جامع بریفنگ دی گئی۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے لاہور اور سکردو ایئرپورٹس کی اپ گریڈیشن پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔اجلاس میں شمالی علاقوں کے لیے اونچی پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹرز، سکردو اور چترال ایئرپورٹس کی سہولیات میں بہتری، پروازوں سے متعلق بروقت معلومات، اور لائسنسنگ میں تاخیر جیسے مسائل زیرِ بحث آئے۔ نجی شعبے نے سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا اور بہتر سہولت کاری کا مطالبہ کیا۔ایم ڈی گرین ٹورازم نے غیر فعال ایئرپورٹس کو فعال بنانے، علاقائی روٹس کے لیے چھوٹے طیاروں کے استعمال، پرانے ایوی ایشن قوانین کو جدید بنانے، اور ہوائی اڈوں پر سیاح دوست اقدامات جیسے برانڈنگ اور سووینیئر شاپس قائم کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے لیے ریسکیو ہیلی کاپٹر، آن لائن ہیلی ٹور بکنگ سسٹم، اور ایئرپورٹ اسٹاف کے لیے سیاحت سے متعلق تربیت کی بھی سفارش کی۔شرکا نے آپریشنز اور سرمایہ کاری پر مشتمل ایوی ایشن ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق کیا، تاکہ بنیادی ڈھانچے، پالیسی، اور رابطہ کاری میں بہتری لا کر پاکستان کی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد علی نے وزارت دفاع کی جانب سے ایوی ایشن سیکٹر میں ریگولیٹری اصلاحات اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔وفاقی مشیر رانا ثنا اللہ خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہہوا بازی سیاحت کی لائف لائن ہے،پاکستان کی قدرتی خوبصورتی، ثقافتی ورثہ، اور مہمان نوازی سیاحوں کے لئے پرکشش ہے۔ فضائی رابطوں اور دیگر اقدامات سے ملک میں سیاحت کا فروغ ممکن ہو گا۔ وفاقی مشیر نے گرین ٹورازم کی کاوش کو سراہتے کہا کہ سفارشات وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی اور تین ماہ میں ان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ قومی سرمایہ کاری فورمز میں ایوی ایشن کو شامل کیا جائے اور لائسنسنگ اصلاحات میں تیزی لائی جائے تاکہ ملک میں سیاحت کو فروغ اور ترقی ملے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بین الصوبائی رابطہ لیفٹیننٹ جنرل میں ایوی ایشن گرین ٹورازم سرمایہ کاری کے لیے ایم ڈی
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند