پہلا اجلاس، پہلا قدم: پنجاب اسمبلی کی سیاحت کمیٹی فعال
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
چیئرمین ملک لال محمد کی زیر صدارت منعقدہ پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سیاحت کے پہلے اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری ڈیپارٹمنٹل کمیٹیز عامر لیاقت چھٹہ، سیکرٹری ٹوارزم پنجاب سمیت محکمہ سیاحت کے دیگر اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران محکمہ سیاحت کی جانب سے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں پاکستان کے سیاحتی شعبے کے معاشی اثرات کو اجاگر کیا گیا، بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیاحت پاکستان کی مجموعی جی ڈی پی میں 5.
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات میں داخلے کے لیے فیس مقرر، ’اگلے سال ویزا لگوا کر جانا پڑے گا‘
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ہر سال تقریباً 12 لاکھ غیر ملکی سیاح پاکستان کا رخ کرتے ہیں، جو سالانہ اندازاً ایک ارب امریکی ڈالر خرچ کرتے ہیں، اسی طرح ملکی سیاحوں کے سالانہ اخراجات کا تخمینہ تقریباً 2,900 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
اجلاس میں سیاحتی سہولیات کی کمی کے پیش نظر کمیٹی نے چولستان اور قلعہ دراوڑ کے دورے کی تجویز دی تاکہ زمینی حقائق کا جائزہ لیا جا سکے، محکمہ سیاحت نے ان دوروں کے انتظامات پر اتفاق کیا، جس کا مقصد علاقے میں درپیش مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: معروف کاروباری شخصیت یاسر الیاس وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت تعینات
اجلاس کا اختتام شرکا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پنجاب میں سیاحت کے فروغ کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی ڈالر پنجاب اسمبلی جی ڈی پی چولستان سیاح سیاحت غیرملکی قائمہ کمیٹی قلعہ دراوڑ محکمہ سیاحت ملک لال محمد
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ڈالر پنجاب اسمبلی جی ڈی پی چولستان سیاح سیاحت غیرملکی قائمہ کمیٹی محکمہ سیاحت ملک لال محمد محکمہ سیاحت
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔