بھارت کے پاس پہلگام واقعے کی کوئی توجیح نہیں یہ انہوں نے خود کرایا تھا، مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کے دوران حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ نے کہا کہ یاسین ملک پر بہت تشددد کیا گیا ہے، ان کے جسم میں مختلف ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں، مقبوضہ کشمیر میں جھوٹے مقدمات میں لوگوں کو بند کردیا گیا ہے، وہاں صحافت کی آزادی نہیں ہے، باہر کی دنیا بھی اس ساری صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ بھارت کے پاس پہلگام واقعے کی کوئی توجیح نہیں یہ انہوں نے خود کرایا تھا، مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہی ممکن ہے، کشمیر کا خطہ وہ جگہ ہے جہاں صرف آہنی پردے پڑے ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ مشعال ملک نے کہا کہ میرے لئے کراچی پریس کلب میں خطاب کرنا اعزاز کی بات ہے، کراچی آتے ہی مجھے بہت پیار اور محبت ملی ہے، آپ صحافیوں نے مسئلہ کشمیر کو بہت اہمیت دی ہے، سب کو سچ دکھانا کراچی پریس کلب کا طرہ امتیاز رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی آنے کا مقصد 5 اگست کے حوالے سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا تھا، میں نے بابائے قوم کے مزار سے اس جدوجہد کا آغاز کیا، یاسین ملک تہاڑ کی جیل میں ہیں، 11 سال ہوگئے ہیں ہمیں یاسین ملک سے جدا ہوئے، آپ نے شاید ہی دنیا کی تاریخ میں یاسین ملک جیسا قیدی دیکھا ہوگا، انہیں فیملی سے بات کی اجازت نہیں، ججز ایک کے بعد ایک فیصلہ سنا رہے ہیں، یاسین ملک پر بہت تشددد کیا گیا ہے، ان کے جسم میں مختلف ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں، مقبوضہ کشمیر میں جھوٹے مقدمات میں لوگوں کو بند کردیا گیا ہے، وہاں صحافت کی آزادی نہیں ہے، باہر کی دنیا بھی اس ساری صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کراچی پریس کلب یاسین ملک انہوں نے نے کہا گیا ہے
پڑھیں:
ایچ آئی وی غفلت پر کسی سے کوئی رعایت نہیں بلاتفریق ایکشن ہوگا، وزیر محنت سندھ
وزیر محنت، انسانی وسائل اور سماجی تحفظ و سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی سعید غنی نے واضح کیا ہے کہ ایچ آئی وی غفلت پر کوئی رعایت نہیں ہوگئی ذمہ دار ڈاکٹر، پیرا میڈیکس اور افسران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
سندھ کے وزیر محنت، انسانی وسائل و سماجی تحفظ اور سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کے گورننگ باڈی کے چیئرمین سعید غنی نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں کسی ڈاکٹر، پیرا میڈیکل اسٹاف یا افسر کے ملوث ہونے کا ثبوت ملا تو کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایچ آئی وی پھیلاؤ کے ذمہ داروں کے خلاف محکماجاتی کارروائی کے ساتھ قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
سیسی گورننگ باڈی کے بجٹ 2026-2027 کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ حکومت کی ایچ آئی وی کے معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، کسی بھی ذمہ دار شخص کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ تمام بچوں کا جامع ڈیٹا فوری طور پر مرتب کیا جائے، جبکہ بیماری کے باعث جاں بحق ہونے والے بچوں کی تفصیلات بھی ریکارڈ میں شامل کی جائیں۔
صوبائی وزیر نے متاثرہ خاندانوں کا تفصیلی ڈیٹا تیار کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ ان کی فلاح و بہبود اور مناسب معاونت کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
مزید پڑھیںولیکا اسپتال میں ایک اور ایچ آئی وی کیس رپورٹ، 18 ماہ کا بچہ متاثر، تعداد 95 ہوگئی
کراچی؛ ایچ آئی وی متاثرہ بچوں کے والدین کا احتجاج، مطالبات نہ ماننے پر بچوں کو آگ لگانے کی دھمکی
اجلاس میں سندھ کے سیکریٹری محنت ساجد جمال ابڑو، سیسی کمشنر ہادی بخش کلہوڑو، گورننگ باڈی کے اراکین سمیت سیسی کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
گورننگ باڈی نے مالی سال 2026-2027 کے لیے سیسی کا 9 ارب 74 کروڑ روپے سے زائد کا سرپلس بجٹ متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ منظور شدہ بجٹ کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران سیسی کی متوقع آمدن 18 ارب 56 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے جبکہ گزشتہ بچت سمیت مجموعی دستیاب وسائل 42 ارب 30 کروڑ روپے سے تجاوز کرنے کا تخمینہ ہے۔
بجٹ میں مجموعی اخراجات کا تخمینہ 18 ارب 50 کروڑ 90 لاکھ روپے لگایا گیا ہے، جبکہ سہ ماہی سرمایہ کاری کے لیے 12 ارب 2 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی معاونت کے لیے 2 ارب روپے کا ایچ آئی وی انڈومنٹ فنڈ بھی مختص کیا گیا ہے۔
سعید غنی نے ہدایت کی کہ سیسی کے زیر انتظام تمام اسپتالوں میں رجسٹرڈ محنت کشوں کو جامع اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سیسی کے تمام اسپتالوں کو اپ گریڈ کرکے جدید طبی سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے جبکہ کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں میں بھی محنت کشوں کے لیے مزید اسپتال قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ محنت کشوں کو سوشل سیکیورٹی پروگرام میں رجسٹرڈ کرنے کے لیے سیسی کے کنٹری بیوشن وصولی کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔