پانی کی الیویٹڈ لائنیں لگارہے ہیں، پانی کی چوری روکی جاسکے گی: مرتضیٰ وہاب
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
فائل فوٹو
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کورنگی، ملیر اور ضلع وسطی میں آبادی تیزی سے بڑھی ہے، پانی کی الیویٹڈ لائنیں لگا رہے ہیں جس سے پانی کی چوری روکی جاسکے گی۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں بات کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر کے ٹیل اینڈ علاقوں میں پانی کی سپلائی کیلئے لائنیں بچھا رہے ہیں، 10 ارب روپے کی لاگت سے اکتوبر میں شہر کے ٹیل اینڈ علاقوں میں پانی کی لائنوں کے پراجیکٹ کا آغاز کردیا جائے گا۔
میئر کراچی نے کہا کہ کے فور پراجیکٹ میں 23-2022 میں بہت بے ضابطگیاں ہوئیں، ماضی میں کے فور منصوبے پر سنجیدگی سے کام نہیں ہوا، واپڈا کا کلیم ہے2026 دسمبر تک وہ کے فور پراجیکٹ پر اپنا کام مکمل کرلے گا۔
دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی میں تعطل زیر زمین کیبل فالٹ کے باعث آیا ہے: ترجمان کے الیکٹرک
انہوں نے کہا کہ ہر صنعتی علاقے میں فائر اسٹیشن موجود ہے، جہاں دو فائر ٹینڈرز موجود ہوتے ہیں، فائر کا اسٹاف کے ایم سی کا ہے، کل لانڈھی میں فیکٹری میں آگ لگی، ہمارےفائر فائٹرز وہاں پہنچے، پانی کی سپلائی بحال رکھی۔
مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کو کراچی کو سپورٹ کرنا چاہیے، تمام انڈسٹری ایسوسی ایشنز سے کہتا ہوں ہمیں مسائل کے حل کیلئے ورکنگ ری لیشن کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پانی کی نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔