Islam Times:
2026-07-24@11:52:08 GMT

مثالی سول سرونٹ اور انسان دوست رہنماء کو خراجِ تحسین

اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT

مثالی سول سرونٹ اور انسان دوست رہنماء کو خراجِ تحسین

اسلام ٹائمز: جی ایم سکندر مرحوم ان افسران میں شامل تھے، جنہوں نے نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔ ان کے اندر انکساری، رحم دلی اور انسانیت نوازی اس حد تک تھی کہ وہ ہر دل میں جگہ بنا لیتے۔ نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پنجاب اور دیگر علاقوں کے لوگ آج بھی ان کے ذکر پر محبت و عقیدت سے سر جھکاتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک قابلِ تقلید بیوروکریٹ بلکہ ایک نظامِ فکر، ایک نظریہ اور ایک مشن تھے۔ تحریر: شبیر احمد شگری

کچھ لوگ دنیا میں آتے ہیں اور اپنے کردار، خدمت، انکساری اور دردِ دل سے ایسی مثال قائم کرتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ جی ایم سکندر شگری مرحوم انہی میں سے ایک تھے۔ انسان دوست، مہربان، غریبوں کے مسیحا، جی ایم سکندر شگری کئی دنوں سے علیل تھے۔ ان کی وفات سے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے ملک میں ان کے چاہنے والوں کو دلی صدمہ پہنچا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی ظاہر و باطن میں کی گئی نیکیاں قبول فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے، آمین۔ گلگت بلتستان کے ضلع شگر سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے پہلے ڈی ایم جی آفیسر جنہوں نے نہ صرف بیوروکریسی کا وقار بلند کیا بلکہ اس کے مفہوم کو بھی بدل دیا۔ چالیس سالہ شاندار سرکاری خدمات کے دوران، وہ ہر منصب پر "خدمتِ خلق" کے علمبردار بنے رہے۔ وہ دفتر میں نہیں، دلوں میں بیٹھتے تھے۔

ان کی زندگی کی سب سے نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ اس طرح کے سول سرونٹ تھے، جیسا کہ حقیقی معنوں میں ایک سرکاری افسر کو ہونا چاہیئے۔ ان تک رسائی ہر کسی کیلئے ممکن تھی، بالخصوص غریب و مجبور افراد کیلئے۔ موجودہ دور کی بیوروکریسی میں یہ ایک ناقابلِ یقین مثال ہے۔ انہوں نے اپنے سٹاف کو واضح ہدایت دے رکھی تھی کہ کسی بھی ضرورت مند کو روکا نہ جائے، بلکہ اکثر وہ خود دفتر آنے سے پہلے ایسے افراد سے گھر پر ہی ملاقات کرتے، ان کی بات سنتے، مسئلہ سمجھتے اور موقع پر حل بھی کرتے۔ ان کے گھر کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا، لان میں کرسیاں اور میز سجی ہوتیں، جہاں وہ نہ صرف مسائل حل کرتے بلکہ آنے والوں کو چائے بھی پیش کی جاتی۔ گویا انہوں نے اپنے گھر کو ایک چھوٹا سا سیکرٹریٹ بنا رکھا تھا۔ کاش کہ ہمارے دیگر بیوروکریٹس بھی ان اوصاف کو اپنا لیں، تاکہ عام لوگوں کے مسائل حل ہوسکیں۔

جی ایم سکندر مرحوم کو بجا طور پر گلگت بلتستان اور دیگر ہزاروں افراد کا "معاشی باپ" کہا جا سکتا ہے، کیونکہ انہوں نے بے شمار افراد کو مختلف اداروں میں ملازمتیں دلائیں، انہیں روزگار کا وسیلہ فراہم کیا۔ مرحوم نے ابتدائی تعلیم ہائی سکول نمبر 1 سکردو سے حاصل کی، بعدازاں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے پولیٹیکل سائنس کیا۔ بعد ازاں یونیورسٹی آف برمنگھم سے ڈویلپمنٹ ایڈمنسٹریشن میں ڈپلومہ، ایڈوانسڈ نیشنل مینجمنٹ کورس اور ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج لاہور سے بھی خصوصی کورسز کیے۔ پاکستان کے مختلف اضلاع میں اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ جب وہ قصور کے ڈپٹی کمشنر تھے، تو اپنی ذاتی کاوش سے ایک سرکاری اسکول قائم کیا، جو آج 5000 سے زائد طلباء کے ساتھ ایک ڈگری کالج بن چکا ہے۔ 1122 جیسا عظیم فلاحی منصوبہ بھی ان کے دور میں تشکیل پایا۔ اس کے علاوہ دیگر فلاحی منصوبت ان کے دور میں عمل پذیر ہوئے۔

جی ایم سکندر نے تقریباً چالیس سال تک مختلف اہم عہدوں پر خدمت انجام دی اور سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے۔ وہ اس بلند ترین مقام تک پہنچے، جہاں ایک سول افسر پہنچ سکتا ہے۔ وہ حکومت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سیکرٹری بھی رہے، جہاں انہوں نے سماجی شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ پنجاب کے پانچ وزرائے اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری رہے، جو خود ایک منفرد اعزاز ہے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ، اطلاعات، سیاحت، فزیکل پلاننگ، بیت المال، سوشل سکیورٹی، اور کوآپریٹیو جیسے محکموں کی بھی قیادت کی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کا مشن جاری رہا۔ وہ ایچ آر اینڈ ریمونریشن کمیٹی کے ڈائریکٹر اور چیئرمین رہے، حمزہ فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی بنے، جہاں بہرے اور گونگے بچوں کی تعلیم کیلئے وقف رہے۔ مارافی فاؤنڈیشن پاکستان کے بھی مستقل رکن رہے، جو صحتِ عامہ اور دیگر سماجی خدمات انجام دیتی ہے۔ مرحوم نیشنل فرٹیلائزر مارکیٹنگ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر اور جے ایس بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی رہے۔

جب پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت مکمل ہوئی تو سابق سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے انہیں خصوصی دعوت پر اسمبلی بلایا اور کہا: "ہم سکندر صاحب سے سیکھتے تھے۔ وہ ہمیں ہر الجھی ہوئی صورتحال سے نکالنے میں مدد دیتے۔" آج کے پرنسپل سیکرٹری کو بھی ان سے سیکھنا چاہیئے۔ یہ ان کی عزت افزائی کا منہ بولتا ثبوت تھا، جی ایم سکندر مرحوم ان افسران میں شامل تھے، جنہوں نے نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔ ان کے اندر انکساری، رحم دلی اور انسانیت نوازی اس حد تک تھی کہ وہ ہر دل میں جگہ بنا لیتے۔ نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پنجاب اور دیگر علاقوں کے لوگ آج بھی ان کے ذکر پر محبت و عقیدت سے سر جھکاتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک قابلِ تقلید بیوروکریٹ بلکہ ایک نظامِ فکر، ایک نظریہ اور ایک مشن تھے۔ انہوں نے سیاست اور شہرت کے بجائے خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا محور بنایا۔ آج وہ ہم میں نہیں مگر ان کی خدمات، عاجزی اور شفقت ہمیں ہمیشہ یاد رہیں گی، مرحوم نے یہ ثابت کر دکھایا کہ: "جو خدمت کو شعار بنائے، وہی اصل افسر ہوتا ہے!" اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے، آمین۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان جی ایم سکندر اور دیگر انہوں نے تھی کہ بھی ان اور ان

پڑھیں:

ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔

طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • زندگی کا مقصد
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا