انجمن علمائے مسلمان لبنان کے رکن شیخ عبداللہ السالم نے کہا ہے کہ وہ ہر سال کربلائے معلی میں عزاداری کی انجمنوں، موکب اور زائرین میں اضافے کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور مومن افراد کی موجودگی میں امام حسین علیہ السلام کا قیام درخشاں تر ہوتا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کے ممتاز عالم دین اور انجمن علمائے مسلمان لبنان کے رکن شیخ عبداللہ السالم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کا انقلاب ہر سال دہرایا جاتا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر سال عزاداری کی انجمنوں، موکب اور زائرین میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انقلاب نہ صرف ختم نہیں ہو گا بلکہ مومن، ثابت قدم اور پاکیزہ قلوب کے حامل افراد کی موجودگی کے باعث مزید واضح ہوتا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ زائرین امام حسین علیہ السلام سے ملاقات کرتے ہیں اور جب ان کے ساتھ فلسطین کا پرچم دیکھتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں: "کیا آپ فلسطینی ہیں؟" تو وہ انہیں جواب دیتے ہیں کہ جی ہاں۔ وہ فلسطینی پرچم کو چومتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم فلسطین کے ساتھ ہیں۔ شیخ عبداللہ السالم نے کہا: "ان میں سے اکثر زائرین کا تعلق ایران سے ہے اور آپ ایسا محسوس کرتے ہیں کہ ان کے دل پاکیزہ ہیں۔ گویا وہ امام حسین علیہ السلام کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکیزہ قلوب کے حامل اور ہر قسم کی برائی سے پاک اور نیک صفات کے حامل ہیں۔"
 
انہوں نے کہا: "کربلائے معلی میں زائرین کی تعداد ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ گذشتہ برس تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ زائرین کربلا آئے اور یہ ایک بڑی تعداد ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حاجیوں کی کل تعداد 30 لاکھ تک ہوتی ہے۔ یہ تعداد مزید بڑھتی جا رہی ہے۔" شیخ عبداللہ السالم نے کہا: "میں خدا نخواستہ مکہ مکرمہ کی شان کم کرنا نہیں چاہتا لیکن جس بات پر زور دینا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ کربلائے معلی ان دنوں دنیا والوں کے لیے ہدایت کا مینار بن چکا ہے۔ اگر ہم دنیا کے تمام ممالک کا جائزہ لیں تو ایسا شہر یا ملک نہیں ملے گا جہاں مختصر مدت میں 2 کروڑ 40 لاکھ زائرین اکٹھے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ یہاں ہوتا ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ کربلائے معلی امام حسین علیہ السلام کے وجود کی برکت سے زائرین کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس شہر میں اربعین کے موقع پر دنیا کا سب سے بڑا انسانی اجتماع ہوتا ہے اور یہ دنیا کا منفرد ترین اجتماع ہے۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امام حسین علیہ السلام شیخ عبداللہ السالم نے کربلائے معلی انہوں نے ہر سال نے کہا ہیں کہ

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان