اپنی سرزمین پر امریکی فوجیوں کارروائیوں کی اجازت نہیں دیں گے؛ میکسیکن صدر
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک اپنی سرزمین پر امریکی فوجی کارروائیوں کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو ہدایت دی تھی کہ میکسیکو میں منشیات کے کارٹلز کے خلاف کارروائی کی تیاری کی جائے۔
کلاڈیا شین بام نے کہا کہ میکسیکو اور امریکا کے درمیان تعاون ضرور جاری ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی فوجی ہماری سرزمین پر تعینات کیے جائیں۔ انہوں نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا، ’’ہم ہر قسم کی ایسی مداخلت کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، یہ کسی معاہدے کا حصہ نہیں اور نہ ہی کبھی ہوگا۔‘‘
میکسیکن صدر نے یاد دلایا کہ جب بھی یہ تجویز پیش کی گئی، ان کی حکومت نے ہمیشہ اسے رد کیا، اور آج بھی یہی مؤقف برقرار ہے۔ وزارتِ خارجہ نے بھی صدر کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امریکی فوجی تعیناتی کسی صورت قابل قبول نہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں امریکا کی جانب سے کئی بار تجویز پیش کی گئی کہ میکسیکو میں منشیات کے کارٹلز کے خلاف امریکی فوج براہِ راست کارروائی کرے، مگر میکسیکن حکام ہر بار اسے مسترد کر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔