پاکستان سمیت دنیا بھر میں آباد ہندو برادری کو رکشا بندھن کی پیشگی مبارکباد پیش کرتے ہیں، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اگست2025ء)متحدہ قومی موومنٹ کے چئیرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ہندو برادری کے آنے والے مذہبی تہوار رکشا بندھن کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں آباد ہندو برادری کو دل کی گہرائیوں سے پیشگی مبارکباد پیش کی ہے۔
(جاری ہے)
اپنے تہنیتی پیغام میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ رکشا بندھن صرف ایک تہوار نہیں بلکہ یہ محبت، تحفظ اور اعتماد کی ایک خوب صورت علامت ہے جو بہن بھائی کے رشتے کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو آج جس اتحاد، رواداری اور باہمی احترام کی ضرورت ہے، وہ اسی طرح کے تہواروں سے ممکن ہے، جو انسان کو انسان سے جوڑتے ہیں اور دلوں کو قریب لاتے ہیں۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ ہمیں مذہب، مسلک اور نسل سے بالاتر ہو کر انسانیت کے فروغ کے لیے کام کرنا ہوگا تاکہ ہمارا معاشرہ امن، محبت اور بھائی چارے کی حقیقی تصویر بن سکے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔