پاکستان سمیت دنیا بھر میں آباد ہندو برادری کو رکشا بندھن کی پیشگی مبارکباد پیش کرتے ہیں، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اگست2025ء)متحدہ قومی موومنٹ کے چئیرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ہندو برادری کے آنے والے مذہبی تہوار رکشا بندھن کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں آباد ہندو برادری کو دل کی گہرائیوں سے پیشگی مبارکباد پیش کی ہے۔
(جاری ہے)
اپنے تہنیتی پیغام میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ رکشا بندھن صرف ایک تہوار نہیں بلکہ یہ محبت، تحفظ اور اعتماد کی ایک خوب صورت علامت ہے جو بہن بھائی کے رشتے کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو آج جس اتحاد، رواداری اور باہمی احترام کی ضرورت ہے، وہ اسی طرح کے تہواروں سے ممکن ہے، جو انسان کو انسان سے جوڑتے ہیں اور دلوں کو قریب لاتے ہیں۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ ہمیں مذہب، مسلک اور نسل سے بالاتر ہو کر انسانیت کے فروغ کے لیے کام کرنا ہوگا تاکہ ہمارا معاشرہ امن، محبت اور بھائی چارے کی حقیقی تصویر بن سکے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘