امریکا کو پاکستانی برآمدات میں 10 فیصد اضافہ، تجارتی سرپلس 4 ارب ڈالر سے زیادہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
پاکستان اور امریکا کے درمیان دو طرفہ تجارتی حجم میں گزشتہ مالی سال کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اورامریکا کی دو طرفہ تجارت 16 فیصد بڑھ کر 7 ارب 59 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔
وزارت خزانہ اورادارہ شماریات کی دستاویزات کے مطابق پاکستان نے مالی سال میں امریکا کو 5 ارب 83 کروڑ ڈالر کی برآمدات کیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہیں۔ اس دوران امریکا سے درآمدات کا حجم ایک ارب 76 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہے۔ ایک سال میں پاکستان کا امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس 4 ارب ڈالر سے زائد ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:
سرکاری دستاویزات کے مطابق برآمدات میں سب سے زیادہ حصہ بستر، میز، ٹوائلٹ اورکچن کی چادروں کا رہا، جن کی مالیت 1.
ٹی شرٹس کی برآمدات 36 کروڑ 10 لاکھ ڈالر، جرسیوں اور پل اوورز کی برآمدات 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر، اور جرابوں کی برآمدات 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ اس کے علاوہ چمڑے کی مصنوعات 16 کروڑ 50 لاکھ ڈالر اور خواتین کے ملبوسات 15 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی مالیت میں امریکا کو برآمد کیے گئے۔
مزید پڑھیں:
دوسری جانب امریکا سے پاکستان نے سب سے زیادہ 39 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی روئی درآمد کی۔ اس کے علاوہ لوہے اور اسٹیل کے اسکریپ کی درآمدات تقریباً 16 کروڑ ڈالر، سویا بین 13 کروڑ 70 لاکھ ڈالر، کوئلہ 5 کروڑ 60 لاکھ ڈالر، اور ٹربو جیٹس و گیس ٹربائنز 5 کروڑ ڈالر مالیت میں درآمد کیے گئے۔
اسی طرح کمپیوٹر مشینز کی درآمدات 4 کروڑ ڈالر، پیٹرولیم آئل 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر، الیکٹرومیڈیکل آلات 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر، اور خشک میوہ جات 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی مالیت میں رہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا برآمدات پاکستان تجارتی حجم درآمدات دو طرفہ تجارت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا برا مدات پاکستان تجارتی حجم درا مدات دو طرفہ تجارت کی برآمدات کروڑ ڈالر لاکھ ڈالر ڈالر کی
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔