امریکا کے ساتھ پاکستان کا تجارتی سرپلس سالانہ 4 ارب ڈالر سے متجاوز
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
امریکا کے ساتھ پاکستان کا تجارتی سرپلس سالانہ 4 ارب ڈالر سے متجاوز WhatsAppFacebookTwitter 0 10 August, 2025 سب نیوز
امریکا کو پاکستانی برآمدات میں ایک سال میں 55 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔امریکا کے ساتھ پاکستان کا تجارتی سرپلس سالانہ 4 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔
دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال پاک امریکا تجارت کا مجموعی حجم 7 ارب 59 کروڑ 80 لاکھ ڈالررہا، پاکستان نے ایک سال میں امریکا کو 5 ارب 83 کروڑ ڈالر کی اشیاء برآمد کیں، پاکستان کی امریکا کو برآمدات میں 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
امریکا سے درآمدات کا حجم ایک ارب 76 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہا، پاکستان کی امریکا سے درآمدات میں گزشتہ سال 40 فیصد اضافہ ہوا۔
بیڈ ویئر، ٹیبل، ٹوائلٹ اور کچن مصنوعات کی برآمدات کا حجم 1.
دستاویز کے مطابق پاکستان نے امریکا کو 36 کروڑ 10 ڈالر کی ٹی شرٹس کی برآمدات کیں، امریکا کو جرسیوں اور پل اوورز کی برآمدات 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں، پاکستان کی امریکا کو جرابوں کی برآمدات 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہیں، امریکا کو چمڑے کی مصنوعات کی برآمدات 16 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہیں۔
زیرجائزہ عرصے کے دوران پاکستان نے امریکا کو خواتین کے ملبوسات کی 15 کروڑ 70 ڈالر کی برآمدات کیں، پاکستان نے امریکا سے سب سے زیادہ 39 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی روئی درآمد کی۔
دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال امریکا سے 16 کروڑ ڈالر کا لوہا اور اسٹیل اسکریپ امپورٹ کیا گیا، امریکا سے 13 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی سویا بین، 5 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا کوئلہ درآمد کیا گیا، امریکا سے ٹربو جیٹس اور گیس ٹربائنز کی درآمدات 5 کروڑ ڈالر رہیں۔
امریکا سے کمپیوٹر مشینز کی 4 کروڑ، پیٹرولیم آئل کی 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی درآمدات ہوئیں، پاکستان نے امریکا سے 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے الیکٹرو میڈیکل آلات درآمد کیے۔ امریکا سے خشک میوہ جات کی درآمدات کا حجم 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآپریشن سندور، پتہ نہیں تھا پاکستان کا ردعمل کتنا تباہ کن ہوسکتا ہے، بھارتی آرمی چیف کراچی؛ واٹر ٹینکر سے حادثے کے بعد ڈمپرز ایسوسی ایشن نے سپر ہائی وے بند کر دی مظفرآباد میں لڑکے اور لڑکی پر تشدد، بچنے کی کوشش میں لڑکی کھائی میں گرکر جاں بحق غزہ میں خوراک کے متلاشی 40 افراد سمیت مزید 47 فلسطینی شہید، غذائی قلت سے 11فلسطینی دم توڑ گئے کوئٹہ میں ریلوے ٹریک کے قریب دھماکا، جعفر ایکسپریس کی کئی بوگیاں پٹری سے اترگئیں کراچی، ڈمپر نے بھائی اور بہن کو کچل دیا، والد شدید زخمی، مشتعل ہجوم کے ہاتھوں 7 ڈمپر نذرآتش فلسطین فلسطینیوں کا ہے، بے دخلی کی کوشش ناقابل قبول ہے: ترک وزیرِ خارجہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان کا ارب ڈالر
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔