معاشرتی سوچ کو چیلنج: حاملہ خاتون نے ’کے ٹو‘ پہاڑ سر کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
سب کہتے ہیں کہ حمل میں عورت کمزور ہو جاتی ہے، میں نے پہاڑوں کو سر کرکے دکھایا کہ یہ کمزوری نہیں، قدرت کی طاقت ہے۔
یہ کہنا ہے کوہاٹ سے تعلق رکھنے والی اسلام آباد کی رہائشی خاتون وکیل عاصمہ بنگش کا، جنہوں نے 33 ہفتوں کی حاملہ ہونے کے باوجود 3 ہزار میٹر بلند میرا جانی چوٹی اور منفی درجہ حرارت میں دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سر کرلیا۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ صرف ایک کارنامہ نہیں بلکہ اس معاشرتی سوچ کو چیلنج کرنے والا قدم ہے جو حاملہ عورت کو کمزور سمجھتی ہے۔ مزید اسلام آباد سے محمد باسط خان کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews حاملہ خاتون کے ٹو پہاڑ سر کرلیا معاشرتی سوچ کو چیلنج منفی درجہ حرارت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حاملہ خاتون منفی درجہ حرارت وی نیوز
پڑھیں:
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانے کی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ پولیس فورس کی بنیاد معیاری افرادی قوت اور انسانی وسائل پر ہوتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور خلوصِ دل سے خدمت پولیس کا مقصد ہے، پولیس کی وردی جوانوں کے لیے اعزاز بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام اور حکومت کی نظریں پولیس فورس پر مرکوز ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانے کی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے، رزاق آباد، سکرنڈ اور حیدرآباد کے مراکز کو پولیس ٹریننگ اسکول کا درجہ دیا جائے۔