پاکستان اور امریکا کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات میں مزید اضافہ ہوگا، بلال اظہر کیانی
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
پاکستان اور امریکی حکام اس وقت ایک اہم تجارتی معاہدے کے فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں، جس میں سرمایہ کاری کے امور بھی شامل ہیں۔ پاکستان نے جنوبی ایشیا کے بڑے ممالک میں سب سے کم ٹیرف کا ہدف حاصل کرلیا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کا نظرثانی شدہ ٹیرف ریٹ 19 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جو بھارت (25 فیصد)، بنگلہ دیش (20 فیصد)، ویتنام (20 فیصد) اور سری لنکا (20 فیصد) جیسے دیگر خطے کے ممالک سے کم ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بلومبرگ ٹی وی کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں اپنی برآمدات کے لیے بہتر ٹیرف ریٹس حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کی تفصیلات پر آنے والے مہینوں میں مزید بات چیت ہوگی۔
پاکستان نے گزشتہ ماہ امریکا کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس میں ابتدائی 29 فیصد کے بجائے 19 فیصد ٹیرف مقرر کیا گیا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ نئے ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت عمل میں آیا۔
مزید پڑھیں: پاک امریکا اکنامک ڈپلومیسی: کیا پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت اپنی کھوئی ہوئی پہچان حاصل کر پائے گی؟
دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ بہتری دیکھی گئی ہے، جس کی جھلک امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی نایاب ملاقات سے بھی ملتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا پاکستان کے وسیع تیل کے ذخائر کی ترقی کے لیے تعاون کرے گا اور اس شراکت داری کے لیے ایک آئل کمپنی کے انتخاب کے عمل میں ہے۔
یہ اعلان اسی دن سامنے آیا جب ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی، جو امریکی تجارتی شراکت داروں پر لگائے جانے والے سب سے زیادہ ٹیرف میں شامل ہے، جب تک بھارت روسی تیل اور ہتھیاروں کی خریداری بند نہیں کرتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر روس صدر پیوٹن یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے اقدامات نہ کریں تو روس پر مزید ٹیرف اور پابندیاں لگائی جائیں گی، جن کا نشانہ روس کے اتحادی بھی ہوں گے۔
علاوہ ازیں، بھارت کی برکس گروپ میں شمولیت پر بھی امریکی عدم اطمینان ظاہر کیا گیا ہے۔ تعلقات میں مزید کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے چین کے پہلے دورے کا اعلان ہوا، جو 7 سال بعد پہلا دورہ ہوگا۔ ٹرمپ نے پہلے بھی کہا تھا کہ ایک دن پاکستان بھارت کو تیل بیچے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا بلال اظہر کیانی پاکستان تجارتی تعلقات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بلال اظہر کیانی پاکستان تجارتی تعلقات کے لیے
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔
آج کاروبار کے پہلے نصف حصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی کا شکار ہوگیا۔
دوپہر 12 بج کر 5 منٹ پرانڈیکس 170,475.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,264.14 پوائنٹس یعنی 0.74 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی سے سرمایہ کار محتاط، پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی سے دوچار
مارکیٹ میں فروخت کا رجحان آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں رہا۔
حب پاور، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز مندی کے ساتھ کاروبار کرتے رہے۔
Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -1253.65 points (-0.73%) at midday trading. Index is at 170,485.8 and volume so far is 113.98 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/DtJJR8AXhS
— Investify Pakistan (@investifypk) July 24, 2026
جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید دباؤ کا شکار رہی تھی، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یعنی 1.54 فیصد کمی کے بعد 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی نے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھنے میں آئی۔
عالمی منڈیوں میں بھی مندیعالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کو نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
گزشتہ روز اس میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور قیمت مختصر طور پر 102 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث سامنے آیا، جس سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے 60 تجارتی شراکت دار ممالک کی درآمدات پر مزید ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے نے بھی مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
مالیاتی منڈیوں میں یہ توقع بھی زور پکڑ رہی ہے کہ عالمی مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ ہفتے ہی شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ستمبر میں شرح سود بڑھانے کا امکان تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
ادھر یورپی مرکزی بینک نے اگرچہ اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود برقرار رکھی، تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔
ایشیائی منڈیوں میں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں ایک فیصد، جاپان کے نکی انڈیکس میں 2.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آبنائے ہرمز آئل ٹینکر اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بحیرہ احمر پاکستان حبیب بینک حوثی سیمنٹ مانیٹری پالیسی میزان بینک نیشنل بینک