UrduPoint:
2026-07-24@13:12:22 GMT

’کسی بھی بھارتی جارحیت کا جواب بھرپور ہو گا،‘ عاصم منیر

اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT

’کسی بھی بھارتی جارحیت کا جواب بھرپور ہو گا،‘ عاصم منیر

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 اگست 2025ء) پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل عاصم منیر نے، جو ایک سرکاری دورے پر امریکہ میں ہیں، اتوار کے روز امریکی سیاسی اور عسکری قیادت کے سینئر اراکین اور پاکستانی کمیونٹی سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے دہشت گردی کی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ سرگرمیاں انتہائی تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’کسی بھی بھارتی جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘‘

پاکستانی آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان نے سفارتی محاذ پر قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو بھی سراہا جنہوں نے، ان کے بقول، جنگوں کو روکنے اور دوطرفہ تعلقات کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد کی، جن میں مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرانا بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا رواں سال امریکہ کا یہ دوسرا سرکاری دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ جون میں بھی ایک سرکاری دورے پر امریکہ گئے تھے، جہاں انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی دعوت پر وائٹ ہاؤس میں ظہرانے پر ان سے ملاقات کی تھی۔

اپنے موجودہ دورے کے دوران پاکستانی آرمی چیف نے امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ جنرل مائیکل ای کوریلا کی ریٹائرمنٹ کی تقریب اور ایڈمرل بریڈ کوپر کی تبدیلیٔ کمانڈ کی تقریب میں بھی شرکت کی، جنہوں نے اب یہ عہدہ سنبھالا ہے۔

عاصم منیر نے امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین سے بھی ملاقات کی اور باہمی پیشہ وارانہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا اور ساتھ ہی انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

اس موقع پر پاکستانی آرمی چیف نے دیگر دوست ممالک کے دفاعی سربراہان سے بھی غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین یہ فوجی رابطے وسیع تر تعاون کی راہیں ہموار کر سکتے ہیں، خاص طور پر علاقائی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں۔ ان کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے درمیان سکیورٹی تعاون آج جتنا مضبوط ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں رہا تھا۔

بھارت-پاکستان فوجی تنازع

اپنے دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں بھی شرکت کی۔

عاصم منیر نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ فوجی تصادم کا تفصیلی ذکر کیا اور نئی دہلی کے اس فیصلے پر سوال اٹھایا کہ اس نے چار روزہ جنگ کے دوران ہونے والے اپنے نقصانات کی مخصوص تفصیلات فراہم کیوں نہیں کیں۔

انہوں نے کہا، ’’بھارت کو اپنے نقصانات تسلیم کرنا چاہییں … اسپورٹس مین اسپرٹ بھی ایک خوبی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد بھی اپنے نقصانات کو عوام کے سامنے لائے گا، بشرطیکہ بھارت بھی ایسا ہی کرے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ نے پاکستان کی موجودہ فوجی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے بھارت کو ایک ’چمچماتی ہوئی مرسڈیز‘ اور پاکستان کو ایک ’مضبوط ڈمپرٹرک‘ سے تشبیہ دی۔

انہوں نے کہا، ''بھارت چمک رہا ہے، جیسے کہ ایک مرسڈیز ہائی وے پر فیراری کی طرح آ رہی ہے، اور ہم ایک پتھر سے بھرا ڈمپر ٹرک ہیں۔ اگر ٹرک کار سے ٹکرا جائے، تو نقصان کس کا ہو گا؟‘‘

سندھ طاس آبی تنازع

بھارتی اخبارات نے بھی عاصم منیر کے دورہ امریکہ کی خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان کے فوجی سربراہ نے کہا کہ اگر بھارت دریائے سندھ کے آبی راستوں پر کوئی ڈھانچہ تیار کرتا ہے، جو پاکستان کے لیے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے، تو اسے تباہ کردیا جائے گا۔

انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ پاکستان کے پاس میزائلوں کی کمی نہیں ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا، ’’ہم بھارت کے ڈیم بنانے کا انتظار کریں گے، اور جب وہ بنا لے گا، پھر دس میزائل سے اسے فارغ کر دیں گے … دریائے سندھ بھارتیوں کی خاندانی ملکیت نہیں ہے۔ ہمارے پاس میزائلوں کی کمی نہیں ہے، الحمد للہ۔‘‘

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے پاکستانی کمیونٹی سے اپنے خطاب میں کہا، ’’محض ڈیڑھ ماہ کے وقفے کے بعد میرا دوسرا دورہ، پاکستان امریکہ تعلقات کے حوالے سے ایک نئی جہت کی علامت ہے۔ ان دوروں کا مقصد تعلقات کو ایک تعمیری، پائیدار اور مثبت راستے پر گامزن کرنا ہے۔‘‘

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستانی آرمی چیف پاکستان اور کہ پاکستان پاکستان کے نے امریکی انہوں نے کے مطابق نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے

امریکہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی طلبہ سمیت دنیا بھر سے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا، امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا اور ویزا کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔

نئی ویزا پالیسی میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟

نئی تجویز کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو پہلے کی طرح اپنے پورے تعلیمی پروگرام کی مدت کے بجائے محدود مدت کے لیے امریکہ میں قیام کی اجازت دی جائے گی۔ زیادہ تر طلبہ کے لیے یہ مدت چار سال ہوگی، جبکہ اگر کسی طالب علم کا تعلیمی یا تحقیقی پروگرام اس سے زیادہ عرصہ لیتا ہے تو اسے امریکہ میں مزید قیام کے لیے الگ سے توسیع کی درخواست دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے کے لیے دی جانے والی رعایتی مدت کو بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ کو اپنی آئندہ منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ کرنا ہوگی۔

پاکستانی طلبہ پر ممکنہ اثرات

ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ کرتے ہیں، خصوصاً ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور تحقیقی پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبہ۔ نئی پالیسی نافذ ہونے کی صورت میں ایسے طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دوران اضافی ویزا کارروائی، مزید دستاویزات اور ممکنہ سیکیورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بعض طلبہ امریکہ کے بجائے دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

امریکی حکومت کا مؤقف

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ویزا نظام میں شفافیت پیدا کرنا اور ایسے افراد کی مؤثر نگرانی کرنا ہے جو طویل عرصے تک امریکہ میں قیام کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق نئی پالیسی ویزا اوور اسٹے اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔

تعلیمی اداروں کے تحفظات دوسری جانب کئی امریکی جامعات اور تعلیمی ماہرین نے مجوزہ تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ کو بار بار ویزا کی تجدید یا مدت میں توسیع کے مراحل سے گزرنا پڑا تو اس سے نہ صرف غیر ملکی طلبہ کے لیے مشکلات بڑھیں گی بلکہ امریکی جامعات کی عالمی سطح پر کشش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر طویل المدتی تحقیقی پروگراموں میں داخل طلبہ کے لیے یہ قوانین اضافی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں امریکی ویزا سروس عارضی طور پر معطل

لاہور کے 22 سالہ عاصم علی، جو ایک طویل عرصے سے امریکہ سے ماسٹرز کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اس مجوزہ پالیسی کو اپنے مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں۔ عاصم کا کہنا ہے کہ ہم جیسے متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ ہی ایک بہت بڑا مالیاتی جوا ہوتا ہے، جہاں بینک اسٹیٹمنٹ کا بندوبست کرنے سے لے کر مہنگی فیسوں کی ادائیگی تک، سب کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اگر چار سال بعد دوبارہ ویزا کی تجدید کا قانون لاگو ہوتا ہے، تو طلبہ پر ہر وقت ویزا ریجیکٹ ہونے اور لاکھوں روپے ڈوبنے کا خوف مسلط رہے گا۔ عاصم کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ جا کر بھی مستقبل غیر یقینی کا شکار رہنا ہے، تو پاکستانی طلبہ کے لیے کینیڈا یا جرمنی جیسے ممالک اب زیادہ بہتر اور محفوظ آپشن بن چکے ہیں۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا ناز، جو بائیوٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کے لیے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کی خواہشمند ہیں، اس پالیسی کو خاص طور پر تحقیقی طلبہ کے لیے ناانصافی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس کے شعبوں میں پی ایچ ڈی اور ریسرچ پروجیکٹس اکثر چار سال سے زیادہ کا عرصہ لے لیتے ہیں اور لیب کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جس کی مدت کا پہلے سے سو فیصد تعین ممکن نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ

سمیرا کہتی ہیں کہ پاکستانی طلبہ کو پہلے ہی انتظامی کارروائی اور سخت سیکیورٹی اسکریننگ کی وجہ سے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب اگر تعلیم کے دوران بار بار اسی ذہنی اذیت اور کاغذی کارروائی سے گزرنا پڑا، تو کسی بھی طالب علم کے لیے یکسوئی سے ریسرچ کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اب غیر ملکی ٹیلنٹ کا خیرمقدم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

امریکی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم پرویز خان کا کہنا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں ان جیسے محققین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کا باعث بنتی ہیں۔ پی ایچ ڈی چونکہ ایک طویل المدتی تحقیقی سفر ہے، اس لیے محدود مدت کے ویزا کی پالیسی اور بار بار ویزا تجدید کے مراحل ان کی تعلیمی اور تحقیقی ٹائم لائنز کو بری طرح متاثر کریں گے۔ اب امریکی جامعات بھی طلبہ کی تحقیقی صلاحیت کے بجائے ویزا اسٹیٹس اور سخت امیگریشن ڈیڈ لائنز کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے علمی کام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

تاہم، پرویز خان کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کی ایک وجہ خود پاکستانی طلبہ کی جانب سے اکیڈمک اور امیگریشن قوانین سے لاپروائی بھی ہے۔ بہت سے طلبہ امریکی تعلیمی نظام کی حساسیت کو سمجھے بغیر سرقہ بازی یا چیٹنگ جیسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی کیریئر ختم ہوتا ہے بلکہ امیگریشن ریکارڈ پر منفی اثر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟

اس کے علاوہ، ورک پرمٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمپس سے باہر غیر قانونی کام کرنا، یونیورسٹی کی جانب سے مطلوبہ فل ٹائم انرولمنٹ برقرار نہ رکھنا، یا محض قیام کو طول دینے کے لیے بلاوجہ اپنے تحقیقی موضوعات کو تبدیل کرنا ایسے عوامل ہیں جو امریکی حکام کے نزدیک شک کا باعث بنتے ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو ان تکنیکی اور قانونی معاملات میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ قوانین سے معمولی سی لاپروائی بھی اب ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نئی ویزا پالیسی نافذ ہو جاتی ہے تو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو پہلے سے زیادہ محتاط منصوبہ بندی، مکمل دستاویزات کی تیاری اور ویزا قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگرچہ اس پالیسی کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاہم اس کے اثرات بین الاقوامی طلبہ، بالخصوص پاکستانی طلبہ، پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا پاکستان پاکستانی طلبا نئی پالیسی ویزا

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر ‘اسکائی 47 قراقرم ون’ کا افتتاح کر دیا
  • وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سکائی47 ڈیٹا سینٹر قراقرم ون کا افتتاح کردیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان