UrduPoint:
2026-07-24@11:03:40 GMT

’کسی بھی بھارتی جارحیت کا جواب بھرپور ہو گا،‘ عاصم منیر

اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT

’کسی بھی بھارتی جارحیت کا جواب بھرپور ہو گا،‘ عاصم منیر

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 اگست 2025ء) پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) فیلڈ مارشل عاصم منیر نے، جو ایک سرکاری دورے پر امریکہ میں ہیں، اتوار کے روز امریکی سیاسی اور عسکری قیادت کے سینئر اراکین اور پاکستانی کمیونٹی سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے دہشت گردی کی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ سرگرمیاں انتہائی تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’کسی بھی بھارتی جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘‘

پاکستانی آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان نے سفارتی محاذ پر قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو بھی سراہا جنہوں نے، ان کے بقول، جنگوں کو روکنے اور دوطرفہ تعلقات کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد کی، جن میں مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرانا بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا رواں سال امریکہ کا یہ دوسرا سرکاری دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ جون میں بھی ایک سرکاری دورے پر امریکہ گئے تھے، جہاں انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی دعوت پر وائٹ ہاؤس میں ظہرانے پر ان سے ملاقات کی تھی۔

اپنے موجودہ دورے کے دوران پاکستانی آرمی چیف نے امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ جنرل مائیکل ای کوریلا کی ریٹائرمنٹ کی تقریب اور ایڈمرل بریڈ کوپر کی تبدیلیٔ کمانڈ کی تقریب میں بھی شرکت کی، جنہوں نے اب یہ عہدہ سنبھالا ہے۔

عاصم منیر نے امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین سے بھی ملاقات کی اور باہمی پیشہ وارانہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا اور ساتھ ہی انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

اس موقع پر پاکستانی آرمی چیف نے دیگر دوست ممالک کے دفاعی سربراہان سے بھی غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین یہ فوجی رابطے وسیع تر تعاون کی راہیں ہموار کر سکتے ہیں، خاص طور پر علاقائی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں۔ ان کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے درمیان سکیورٹی تعاون آج جتنا مضبوط ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں رہا تھا۔

بھارت-پاکستان فوجی تنازع

اپنے دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں بھی شرکت کی۔

عاصم منیر نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ فوجی تصادم کا تفصیلی ذکر کیا اور نئی دہلی کے اس فیصلے پر سوال اٹھایا کہ اس نے چار روزہ جنگ کے دوران ہونے والے اپنے نقصانات کی مخصوص تفصیلات فراہم کیوں نہیں کیں۔

انہوں نے کہا، ’’بھارت کو اپنے نقصانات تسلیم کرنا چاہییں … اسپورٹس مین اسپرٹ بھی ایک خوبی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد بھی اپنے نقصانات کو عوام کے سامنے لائے گا، بشرطیکہ بھارت بھی ایسا ہی کرے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ نے پاکستان کی موجودہ فوجی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے بھارت کو ایک ’چمچماتی ہوئی مرسڈیز‘ اور پاکستان کو ایک ’مضبوط ڈمپرٹرک‘ سے تشبیہ دی۔

انہوں نے کہا، ''بھارت چمک رہا ہے، جیسے کہ ایک مرسڈیز ہائی وے پر فیراری کی طرح آ رہی ہے، اور ہم ایک پتھر سے بھرا ڈمپر ٹرک ہیں۔ اگر ٹرک کار سے ٹکرا جائے، تو نقصان کس کا ہو گا؟‘‘

سندھ طاس آبی تنازع

بھارتی اخبارات نے بھی عاصم منیر کے دورہ امریکہ کی خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان کے فوجی سربراہ نے کہا کہ اگر بھارت دریائے سندھ کے آبی راستوں پر کوئی ڈھانچہ تیار کرتا ہے، جو پاکستان کے لیے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے، تو اسے تباہ کردیا جائے گا۔

انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ پاکستان کے پاس میزائلوں کی کمی نہیں ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا، ’’ہم بھارت کے ڈیم بنانے کا انتظار کریں گے، اور جب وہ بنا لے گا، پھر دس میزائل سے اسے فارغ کر دیں گے … دریائے سندھ بھارتیوں کی خاندانی ملکیت نہیں ہے۔ ہمارے پاس میزائلوں کی کمی نہیں ہے، الحمد للہ۔‘‘

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے پاکستانی کمیونٹی سے اپنے خطاب میں کہا، ’’محض ڈیڑھ ماہ کے وقفے کے بعد میرا دوسرا دورہ، پاکستان امریکہ تعلقات کے حوالے سے ایک نئی جہت کی علامت ہے۔ ان دوروں کا مقصد تعلقات کو ایک تعمیری، پائیدار اور مثبت راستے پر گامزن کرنا ہے۔‘‘

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستانی آرمی چیف پاکستان اور کہ پاکستان پاکستان کے نے امریکی انہوں نے کے مطابق نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔

طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان