پشاور:

ایم ڈی کیٹ فیس میں اضافے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی اور مؤقف اپنایا گیا ہے کہ فیسوں میں اضافے کو غیرقانونی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے طلبہ کو فیس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔

پشاور ہائی کورٹ میں اسلامی جمعیت طلبہ نے رٹ پٹیشن محمد ریاض، محمد ارشد الحسن اور شبیر خان ایڈوکیٹس کی وساطت سے درخواست دائر کی ہے، جس میں صوبائی حکومت، خیبرمیڈیکل یونیورسٹی اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجوں کی داخلہ فیس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، رواں سال پاکستان میڈیکل کونسل کی جانب سے ایم ڈی کیٹ کی فیس فی طالب علم 9 ہزار روپے وصول کی جا رہی ہے۔

عدالت سے کہا گیا ہے کہ بھاری فیس غریب اور متوسط طبقے کے ساتھ ناانصافی ہے، ملک کے دیگر بڑے میڈیکل کالجوں میں داخلہ امتحانات کی فیس ایم ڈی کیٹ سے کافی کم ہے اور فیسوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ آئین کے آرٹیکل 25 کے خلاف ہے کیونکہ آئین کے مطابق معیاری تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں طلبہ کو درپیش مشکلات کے پیش نظر زیادہ فیس کی وصولی پر نوٹس لیتے ہوئے اسے کالعدم قراردیا جائے۔

پشاور ہائی کورٹ سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے طلبہ کو فیس سے مستثنیٰ قرار دینے اور فریقین کو فیسوں کے تعین کے لیے ایک پالیسی اور طریقہ کار بنانے کے احکامات جاری کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پشاور ہائی کورٹ ایم ڈی کیٹ گیا ہے کہ

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا