چین میں پاک بھارت وزرائے اعظم کی موجودگی، شہباز شریف کا ریڈ کارپٹ استقبال، مودی کا پھیکا خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم چین کے شہر تیانجن میں ایک ساتھ موجود ہیں۔ مئی میں پاک بھارت جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب دونوں رہنما ایک ہی شہر میں شریک ہیں۔
مبصرین کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے استقبال میں واضح فرق دیکھا گیا۔ شہباز شریف کا استقبال ریڈ کارپٹ پر ہوا اور چینی اعلیٰ حکام نے انہیں ایئرپورٹ پر خوش آمدید کہا۔ انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
اس کے برعکس بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا خیرمقدم روایتی اور نسبتاً سادہ انداز میں کیا گیا، جس پر بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے بھی تنقید کی۔
چینی سوشل میڈیا پر شہباز شریف کے استقبال کو گرمجوش قرار دیا گیا۔ پاکستانی صارفین نے کہا کہ چینی جہازوں کے ذریعے بھارتی رافیل طیارے گرانے والے ملک کے وزیراعظم کا ایسا ہی پرتپاک استقبال ہونا چاہیے تھا۔
ایک صارف کے مطابق، شہباز شریف کا ریڈ کارپٹ استقبال چھ گنا بڑے ملک بھارت کو شکست دینے کی سفارتی جھلک ہے۔
مودی نے تیانجن میں وزیراعظم پاکستان، ترکیہ، آذربائیجان اور چین کے صدور کے ہمراہ کھانے میں شرکت کی۔ بھارتی سوشل میڈیا صارفین کے مطابق یہ وہی ممالک ہیں جو پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شہباز شریف
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔