دہلی میں منعقد ہونے والی کواڈ سمٹ میں امریکی صدر کی شرکت مشکوک ہوگئی جب کہ مودی سرکار کی ناقص سفارتی پالیسیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا شکار کر دیا۔

پاک بھارت جنگ میں امریکی ثالثی سے انکار ،بھارت کے سفارتی و معاشی زوال کی بڑی وجہ بن گیا۔

بھارتی جریدے بزنس اسٹینڈرڈ نے نیویارک ٹائمز  کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ٹرمپ کا کواڈ سمٹ کے لیے ہندوستان کا دورہ کرنے کا اب کوئی منصوبہ نہیں ہے،  ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کو ٹیلی فون پر کواڈ سمٹ میں شرکت کیلئے بھارت آنے کا کہا تھا۔

بزنس اسٹینڈرڈ   نے لکھا کہ امریکا اور بھارت کی حکومتوں نے نیویارک ٹائمز کے اس دعوے پر کوئی ردِعمل نہیں دیا،  نومبر کے قریب نئی دہلی میں کواڈ سمٹ میں آسٹریلیا، جاپان اور امریکا کے رہنما شرکت کریں گے۔

بزنس اسٹینڈرڈ کے مطابق ٹرمپ اور مودی کے تعلقات اس وقت خراب ہونا شروع ہوئے جب ٹرمپ  نے بار بار پاک بھارت جنگ بندی کا دعویٰ کیا، بھارت نے مئی میں  ٹرمپ کے  پاک بھارت جنگ بندی کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا،  رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے بار بار دعوؤں نے مودی کو سخت ناراض کیا۔
 
 جی 7سربراہی اجلاس کے بعد ٹرمپ اور مودی میں فون پر بات چیت ہوئی تھی، مودی اور ٹرمپ کی ملاقات اجلاس کے موقع پر ہونی تھی، لیکن ٹرمپ جلد  واشنگٹن  چلے گئے۔

بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے پیغام میں کہا کہ مودی نے ٹرمپ کی مداخلت سے انکار کیا، مودی نے واضح طور پر ٹرمپ کو کہا کہ آپریشن سندور کے دنوں میں کسی سطح پر تجارتی معاہدے یا ثالثی کی کوئی تجویز پر بات نہیں ہوئی، وزیر اعظم مودی نے کہا ہندوستان ثالثی کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہی کرے گا۔

بزنس اسٹینڈرڈ کے مطابق ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم مودی کے تبصروں کو بڑی حد تک مسترد کردیا ،  اختلاف رائے اور نوبل امن انعام  پر مشغول ہونے سے انکار نے تعلقات کی خرابی میں بڑا کردار ادا کیا، امریکی صدر ٹرمپ اب تک 40 سے زائد مرتبہ پاک بھارت جنگی بندی کے دعوے کو دہرا چکے ہیں،  ٹرمپ نے روس سے تیل کی خریداری کی وجہ سے ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔

بزنس اسٹینڈرڈ  نے لکھا کہ  لگتا ہے بھاری ٹیرف بھارت کو سزا دینے کیلئے ہیں کیونکہ وہ امریکا کی مرضی کے مطابق نہیں چل رہا، رپورٹ کے مطابق:  امریکی  صدر ٹرمپ  نے ہندوستان کو منفرد طور پر نشانہ بنایا۔

بار بار ٹرمپ کے جنگ بندی کے دعوے پاکستان کی کامیابی اور بھارت کی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہیں، مودی سرکارکی ناکام سفارتی پالیسیوں نے بھارتی عوام اور سرمایہ کاروں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے،  مودی  سرکار کی ہٹ دھرمی اور ضد نے بھارت  پر دنیا کے  دروازے بند کر رکھے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بزنس اسٹینڈرڈ پاک بھارت جنگ کواڈ سمٹ میں کے مطابق نے بھارت

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا