صدر ٹرمپ بھارت سے بدظن کیوں ہوئے؟ امریکی اخبار نے بھید کھول دیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
امریکی صدر بھارتی وزیراعظم سے بدظن کیوں ہوئے، امریکی اخبار نے بھید کھول دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کردی
امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائم میں شائع خبر کے مطابق صدر ٹرمپ نے وزیرِ اعظم مودی کو فون کر کے انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
امریکی اخبار کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے نریندر مودی نے اس پر کوئی مثبت ردعمل دینے کے بجائے کہا کہ پاک-بھارت تنازع کا حل دونوں ممالک نے خود کیا، کسی بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں۔
اخبار کے مطابق اس انکار نے دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات میں سردی پیدا کر دی۔
نیو یارک ٹائمز نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے متعدد اہم شخصیات سے بات چیت پر مبنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ اس انکار نے ذاتی تحفظات کو سفارتی سطح پر منتقل کر دیا، اور دونوں ممالک کے درمیان جاری تعاون کو متاثر کیا۔
یہ بھی پڑھیں:’میں کچھ بھی کرلوں مجھے نوبیل انعام نہیں ملے گا‘، ٹرمپ اس قدر مایوس کیوں؟
اس کشمکش نے نہ صرف ذاتی تعلقات کو نقصان پہنچایا بلکہ تجارتی اور دفاعی میدان میں بھی شکوک کو جنم دیا ہے، اور بھارت کے ممکنہ طور پر چین اور روس کے قریب جانے کے راستے بھی ہموار ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت بھارتی وزیراعظم ٹرمپ صدر ٹرمپ مودی نریندر مودی نوبیل انعام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بھارتی وزیراعظم نوبیل انعام امریکی اخبار
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔