اسلام آباد:

امریکی وزارت تجارت کے ماتحت سائنٹفک اینڈ ریگیولیٹری اتھارٹی ایجنسی نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفئیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) نے پاکستان کی فشریز کو امریکی معیار کے برابر قرار دے دیا۔

این او اے اے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے فشریز ریگولیٹری معیار مؤثر اور عالمی قوانین کے مطابق ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈولفن اور دیگر سمندری ممالیہ کے جان بوجھ کر شکار پر مکمل پابندی ہے، حکومت سندھ  نے 2016 میں سمندری اور فریش واٹر جانوروں کے شکار پر پابندی لگائی ہے۔

پاکستان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان نے سمندری ممالیہ کے بائی کیچ کم کرنے کے لیے خصوصی پروگرام نافذ کیا، ماہی گیری جہازوں پر 50 فیصد مبصرین، 25 فیصد ماہی گیروں کے انٹرویوز اور 25 فیصد لاگ بکس کی مانیٹرنگ لازمی قرار دی گئی ہے۔

این او اے اے نے بتایا ہے کہ پاکستان نے بڑے پیمانے پر ڈرفٹ نیٹ ماہی گیری پر پابندی لگا دی، ٹونا جال میں ڈولفن کے پھنسنے کے واقعات نمایاں حد تک کم ہو گئے ہیں اور ماہی گیروں کے لیے تعلیمی پروگرام، عملے کی تربیت اور سمندری ممالیہ کی رہنما کتابیں جاری کی گئی ہیں۔

امریکی ادارے نے بتایا کہ پاکستان مستقبل میں گل نیٹ کے بجائے ہینڈ لائن ماہی گیری متعارف کرائے گا۔

این او اے اے کے مطابق پاکستان کی برآمدی فشریز امریکی منڈی کے لیے قابل قبول قرار دی گئی ہیں اور پاکستان سمندری جانوروں کے بائی کیچ رپورٹنگ کے ضابطے رکھتا ہے مگر مکمل اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف اسپنر ڈولفن کے بائی کیچ کے اعداد و شمار فراہم ہوئے جبکہ دیگر ڈیٹا محدود ہے، بحیرہ عرب کی ہمپ بیک وہیل کے بائی کیچ کی حد کا تعین نہیں ہو سکا۔

رپورٹ کے مطابق 2013-2014 میں ٹونا گل نیٹ میں ڈولفن کی اموات 10 سے 12 ہزار سالانہ تک تھیں۔

این او اے اے نے بتایا ہے کہ بعض سمندری ممالیہ اب بھی نامعلوم کیٹیگری میں شامل ہیں، پاکستان کا بائی کیچ ڈیٹا ابھی مکمل اور قابل بھروسہ نہیں ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے بڑے پیمانے پر ہائی سیز ڈرفٹ گل نیٹ کے استعمال پر پابندی لگا دی، قانون کے مطابق گل نیٹ کی زیادہ سے زیادہ لمبائی ڈھائی کلومیٹر مقرر کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے آئی او ٹی سی قرارداد 17 صفر سات پر اعتراض کیا تھا مگر ملکی قانون زیادہ مؤثر ہے، آئی او ٹی سی کے ضابطے کے تحت گل نیٹ سطح سمندر سے دو میٹر گہرائی پر لگانے کی پابندی عائد ہے اور آئی او ٹی سی میں ڈولفن کو گھیرنے پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان کوئی مشترکہ سمندری ممالیہ اسٹاک موجود نہیں ہے۔

این او اے اے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور این ایم ایف ایس کے درمیان نومبر 2021 میں تکنیکی مشاورت ہوئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سمندری ممالیہ ہے کہ پاکستان کہ پاکستان نے او اے اے کے بائی کیچ میں ڈولفن بتایا گیا رپورٹ میں گیا ہے کہ کے مطابق گل نیٹ

پڑھیں:

ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی

سری لنکا کی حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں تعینات قونصل جنرل سری لنکا سنجیوا پٹیوالا نے میڈیا سے گفتگومیں بتایا کہ سری لنکن حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی جس کے بعد سری لنکا جانے والے پاکستانیوں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے سری لنکا جانے والے ویزہ کی درخواست آن لائن دے سکتے ہیں۔

قونصل جنرل نے بتایا کہ پاکستان اور سری لنکن کے دوطرفہ تعلقات اہم ہیں، حکومت پاکستان نے 100 سری لنکن اسٹوڈنٹس کوعلامہ اقبال یونیورسٹی میں اسکالرشپ دی ہے جو ایک مثبت اقدام ہے۔

انہوں نے کاہ کہ پاکستان سری لنکا کےدرمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پرسن 2005 میں دستخط ہوئے تھے لیکن تاحال دونوں ملکوں میں ٹریڈ بیریئرز موجود ہیں۔

قونصل جنرل نے مزید کہا کہ پاکستان سری لنکا درمیان درمیان دفاعی تعلقات بھی اہم ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق