چینی ٹیکنالوجی اور طریقے قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے سودمند ثابت ہوں گے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر بھرپور اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ چین کی جدید ٹیکنالوجی اور طریقہ کار قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے اور بروقت اقدامات اٹھانے کے لیے پاکستان میں انتہائی مددگار ثابت ہوں گے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے یہ بات چین کے شہر تیانجن میں نیشنل فیسلٹی فار ارتھ کوئیک انجینئرنگ سمیولیشن کے دورے کے دوران کہی۔ وزیراعظم نے چینی ماہرین اور انجینئرز کی مہارت کو سراہا اور اعتماد ظاہر کیا کہ پاکستان چین کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر مستقبل میں بہتر حکمتِ عملی وضع کرے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پاکستان میں انٹرنیشنل میڈیکل سینٹر، پاک۔چین جوائنٹ لیب اور دیگر مشترکہ منصوبوں کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ ہنگامی صورتحال میں بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے امدادی سامان کے قافلے نارووال، سیالکوٹ، وزیرآباد، حافظ آباد، چنیوٹ اور جھنگ میں متاثرہ خاندانوں کے لیے روانہ کر دیے گئے ہیں، جو صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حوالے کیے جائیں گے۔ انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو ہدایت کی کہ وہ پنجاب حکومت اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ مکمل رابطے میں رہے اور ہر ممکن تعاون فراہم کرے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی اور حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔ دورے کے دوران وزیراعظم کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریسکیو ٹیکنالوجیز، بالخصوص نئی میڈیکل ریسکیو گاڑیوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ پاک۔چین تعاون کے تحت متعدد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ دیگر منصوبے زیر تکمیل ہیں، جن میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت قائم پاک۔چین جوائنٹ لیب برائے ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی میڈیسن، انٹرنیشنل میڈیکل کوآپریشن سینٹر اور پاک۔چین فرینڈشپ ہسپتال شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آج ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کریں گے۔ وہ تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے استقبالیہ میں بھی شریک ہوں گے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم صدر شی جنگ پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کریں گے جن میں پاک۔چین تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت ہوگی۔
وزیراعظم اپنے دورہ چین کے دوران ممتاز چینی تاجروں اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے اور بیجنگ میں پاک۔چین سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کریں گے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈیزاسٹر مینجمنٹ کریں گے پاک چین کے لیے کہ پاک
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔