Express News:
2026-06-03@00:48:25 GMT

سیلاب، جہاں زندگی رواں دواں تھی وہاں اب بے بسی کے سائے

اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT

لاہور:

لاہور کے علاقے تھیم پارک، موہلنوال اور چوہنگ کے لوگ پچھلے کئی دنوں سے سیلاب میں گھِرے ہوئے ہیں اگرچہ اب پانی کچھ کم ہوا ہے مگر سیکڑوں گھروں میں اب بھی پانی بھرا ہوا ہے جہاں کبھی زندگی رواں دواں تھی وہاں آج مایوسی اور بے بسی کے سائے ہیں. 

موہلنوال کی گلیوں میں کھڑے پانی سے تعفن اٹھ رہا ہے، لوگ اپنے ٹوٹے دروازوں اور ڈوبے ہوئے فرنیچر کو دیکھ کر آنکھوں میں آنسو چھپا نہیں پا رہے، ایک مقامی خاتون جن کے پاس اب صرف کپڑوں کا ایک جوڑا بچا ہے، لرزتی آواز میں  کہا کہ میری عمر بھر کی جمع پونجی سب بہہ گئی، اب نہ ہمارے پاس چھت ہے نہ سہارا.

 

حکومت کی طرف سے متاثرین کو چوہنگ کے ایک سرکاری سکول میں ٹھہرایا گیا ہے جبکہ الخدمت فانڈیشن اور پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے خیمہ بستیاں بھی لگائی گئی ہیں مگر امداد کی یہ کہانیاں بھی اپنے اندر تلخ حقیقتیں سمیٹے ہوئے ہیں. 

جماعت اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی لاہور کے کنوینئر قیصر شریف نے الزام لگایا کہ پولیس اور شہری انتظامیہ نے چوہنگ کی الخدمت خیمہ بستی میں متاثرین سے زبردستی خیمے خالی کروانے کی کوشش کی، حکومت ریلیف دینے کی بجائے متاثرین کو مزید تکلیف دے رہی ہے. 

مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستی کیساتھ بھی پولیس اور مقامی حکومتی سیاسی قیادت کی طرف سے ایسے ہی سلوک اور دھمکیوں کی اطلاعات ملی ہیں، متاثرہ سیلاب کا شکوہ  ہے کہ حکومت کی طرف سے کوئی خاطر خواہ مدد نہیں پہنچی، مرد و خواتین سب ایک ہی جملہ دہراتے ہیں کہ ہمیں ابھی تک کوئی نہیں پوچھنے آیا.

سیلاب متاثرین اپنی بچیوں کی شادی کے جہیزکا سامان سیلاب کی نذر ہونے پر پریشانیوں کے دریا میں گر گئے ہیں، کاشتکاروں کی قیمتی فصلیں تباہ ہوگئیں دریائے راوی کے کنارے پھولوں کے کھیت اور سبزیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان