چین کی فوجی پریڈ متاثر کن تھی، صدر شی کی تقریر میں امریکا کا ذکر ہونا چاہیے تھا، ٹرمپ کا شکوہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین میں ہونے والی فوجی پریڈ کو شاندار اور متاثر کن قرار دیتے ہوئے اس موقع پر امریکی کردار کا ذکر نہ ہونے پر شکوہ بھی کردیا۔
وائٹ ہاؤس میں پولینڈ کے صدر کیرول ناروکی کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ بیجنگ میں ہونے والی فوجی پریڈ کی تقریب نہایت خوبصورت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: چین، روس اور شمالی کوریا امریکا کے خلاف سازش کررہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا الزام
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدر شی جن پنگ کی تقریر بھی غور سے سنی، وہ میرے ذاتی دوست ہیں لیکن تقریر میں امریکا کا ذکر ہونا چاہیے تھا کیونکہ چین نے ماضی میں امریکا سے بے پناہ مدد حاصل کی تھی۔
روس سے متعلق گفتگو میں ٹرمپ نے کہاکہ آنے والے ایک یا دو ہفتوں میں یہ بات واضح ہو جائے گی کہ امریکا اور روس کے تعلقات کس حد تک خوشگوار ہیں۔ روسی صدر کا نام لیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ میں جلد ان سے رابطہ کروں گا۔
ٹرمپ نے مزید کہاکہ میرا مؤقف روسی قیادت اچھی طرح جانتی ہے، صدر پیوٹن بہرحال کوئی نہ کوئی فیصلہ کریں گے، اور اس فیصلے پر ہمارا ردعمل اسی کے مطابق ہوگا، اگر ہمیں اطمینان نہ ہوا تو دنیا ہمارے ردعمل کا مشاہدہ کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عسکری، سیاسی طاقت کی دوڑ، چین اور امریکا میں سے کون آگے؟
یاد رہے کہ چین نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر عظیم الشان فوجی پریڈ کا اہتمام کیا، جس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان سمیت 26 ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی صدر کا شکوہ چین فوجی پریڈ متاثر کن وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر کا شکوہ چین فوجی پریڈ متاثر کن وی نیوز فوجی پریڈ
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔