کم جونگ ان کی بیٹی کا تاریخی انٹرنیشنل ڈیبیو، چین کی فوجی پریڈ میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان اپنی بیٹی اور ممکنہ جانشین کم جو اے کے ہمراہ بیجنگ پہنچے جہاں انہوں نے شاندار فوجی پریڈ میں شرکت کی۔ سرکاری میڈیا کی جاری کردہ تصاویر میں کم جو اے کو پہلی مرتبہ کسی بین الاقوامی تقریب میں دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: روس کو ہتھیاروں کی فراہمی: صدر کم جونگ ان کا رواں ماہ روس کا دورہ متوقع
کم جو اے اب تک اپنے والد کے ساتھ متعدد ہتھیاروں کے تجربات میں شریک ہوچکی ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق چین میں ان کی موجودگی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ کم خاندان کی جانشینی کے حوالے سے انہیں اہم مقام حاصل ہے۔
کم جو اے کو پہلی بار 2022 میں دنیا کے سامنے متعارف کرایا گیا تھا جب وہ اپنے والد کے ساتھ ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربے میں شریک ہوئیں۔ تاہم سابق امریکی باسکٹ بال اسٹار ڈینس روڈمین نے سب سے پہلے 2013 میں ان کے وجود سے دنیا کو آگاہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چین، روس اور شمالی کوریا امریکا کے خلاف سازش کررہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا الزام
روڈمین کے مطابق پیونگ یانگ کے دورے کے دوران کم جونگ ان نے اپنی اہلیہ ری سول جو اور ننھی بیٹی سے متعارف کراتے ہوئے کہا تھا: ’یہ میری بیٹی ہے‘۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے کبھی ان کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم جنوبی کوریائی انٹیلیجنس کے مطابق یہ کم جو اے ہیں، جو کم جونگ ان اور ان کی اہلیہ ری سول جو کی بیٹی ہیں، جن کی شادی 2009 میں ہوئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انٹرنیشنل ڈیبیو جانشین چین شمالی کوریا صدر کم جونگ ان فوجی پریڈ کم جو اے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل ڈیبیو چین شمالی کوریا فوجی پریڈ کم جو اے شمالی کوریا کم جو اے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز