ٹرمپ کا چین، روس اور شمالی کوریا پر طنزیہ حملہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین، روس اور شمالی کوریا کو ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ٹرمپ نے بیجنگ میں چینی صدر کے جاپان کے خلاف دوسری جنگِ عظیم میں کامیابی کی 80 ویں سالگرہ پر ہونے والی شاندار فوجی پریڈ کے ردعمل میں کہا کہ چینی صدر کو بیرونی حملہ آوروں کو شکست دینے میں امریکی کردار کا اعتراف کرنا چاہیے۔
صدر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر چینی صدر تاریخ کے طالب علم ہیں تو انہیں تسلیم کرنا چاہیے کہ جاپان پر فتح امریکی مدد کے بغیر ممکن نہ تھی اور چین کو اپنی فتوحات کا سہرا امریکہ کو بھی دینا چاہیے۔
ٹرمپ نے مزید الزام لگایا کہ چینی صدر، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن، امریکہ کے خلاف خفیہ سازشوں میں ملوث ہیں، تاہم انہوں نے اس الزام کو اپنے منفرد طنزیہ انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں ان تینوں رہنماؤں کو ہماری مخالفت پر نیک خواہشات بھیجتا ہوں۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چینی صدر
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔