’دھماکے کے بعد ہر طرف سے چیخیں سنائی دے رہی تھیں، ہر شخص پر خوف طاری تھا‘ یہ کہنا تھا کوئٹہ کے رہائشی بلال احمد کا،  جو سریاب روڈ پر واقعہ شاہوانی اسٹیڈیم میں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے جلسے میں شریک تھے۔

بلال احمد نے بتایا کہ شام چار بجے وہ اپنے گھر سے نکلے، جلسہ گاہ زیادہ دور نہ تھا، سو چند منٹوں میں وہاں پہنچ گئے، رات ساڑھے 9 بجے جلسہ ختم ہوا، لوگ باہر نکل رہے تھے۔

’مجھے مرکزی دروازے تک جاتے ہوئے چند منٹ ہی گزرے تھے کہ اچانک ایک دہلا دینے والا دھماکہ ہوا، دھماکے کی شدت ایسی تھی کہ اردگرد کے شیشے کرچیاں بن کر زمین پر بکھر گئے، ہر طرف خون ہی خون تھا۔ لوگ زخمی پڑے تھے، کوئی کراہ رہا تھا، کوئی حرکت نہیں کر رہا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیں:

ایسے میں انہوں نے گھبرا کر پیچھے دیکھا تو آگ کے شعلے آسمان کو چھو رہے تھے، ہوش سنبھالتے ہی انہوں نے دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر زخمیوں کو اٹھانے اور انہیں سول اسپتال بھیجنا شروع کیا۔

اسی دھماکے میں عرفان نامی نوجوان بھی زخمی ہوا، عرفان کے مطابق جب جلسہ ختم ہوا تو قائدین کی گاڑیاں باہر نکل رہی تھیں، ان کی آخری گاڑی گزرنے ہی والی تھی کہ اچانک زوردار دھماکے نے فضا کو چیر کر رکھ دیا۔ ’کچھ سمجھ نہیں آیا، بس اتنا یاد ہے کہ میں گر پڑا اور میرے پاؤں پر زخم آئے۔‘

مزید پڑھیں:

زخمیوں میں بلوچستان کے سابق رکن اسمبلی احمد نواز بھی شامل تھے۔ وہ سانحے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ جلسہ سردار عطااللہ کی برسی کے موقع پر تھا، جیسے ہی ہم نے قائدین کو باہر نکالا اور خود بھی مین روڈ کی طرف بڑھے تو اچانک قیامت ٹوٹ پڑی۔

’دھماکہ ہمارے قریب ہوا، گاڑیاں تباہ ہوئیں، دوست خون میں نہائے ہوئے زمین پر گر گئے، میں خود اس گاڑی کی دوسری جانب کھڑا تھا، اللہ نے بچا لیا، ورنہ 4 فٹ کے فاصلے پر موت کھڑی تھی، یہ لمحہ میرے لیے ناقابلِ فراموش ہے۔‘

دھماکے میں مجموعی طور پر 15 افراد جاں بحق جبکہ 39 زخمی ہوئے تھے، پولیس نے واقع کا مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا  ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور

انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع  کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا