Jasarat News:
2026-06-03@02:49:52 GMT

جاپان: درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائل تعینات

اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹوکیو (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی فوج نے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا نیا میزائل نظام جاپان میں تعینات کردیا۔ یاماگْچی میں امریکی مرین کور کے ائر اسٹیشن اواکونی میں ٹائیفون سسٹم ذرائع ابلاغ کو دکھایا گیا۔ یہ تعیناتی جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز کے ساتھ مشترکہ مشق کا حصہ ہے جو جمعرات کے روز شروع ہوئی تھی۔ ریزولِیوٹ ڈریگن نامی اس مشق کا مقصد جاپان کے دور دراز کے جزائر کے دفاع کے لیے فوجی نقل و حرکت کو مربوط کرنا ہے۔ٹائیفون زمین سے ٹام ہاک کروز میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نظام 1600 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں کو داغ سکتا ہے جو اواکونی سے بحیرئہ مشرقی چین اور چین کے کچھ حصوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ سرد جنگ کے آخری مرحلے میں سابق سوویت یونین کے ساتھ جوہری تخفیف اسلحہ کے معاہدے کے تحت امریکا کے پاس زمین سے مار کرنے والے درمیانی اور کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نہیں تھے۔ اسی دورانیے میں چین نے ایسے بہت سے میزائل تیار کرلیے اور تعینات کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ میزائل امریکا کا مقابلہ کرنے کی چینی فوج کی حکمت عملی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ تخفیف اسلحہ معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد امریکا نے ٹائیفون کی تیاری کو تیز کیا تاکہ اِسے ہند بحرالکاہل میں تعینات کیا جائے۔ گزشتہ سال فلپائن خطے کا پہلا ملک بن گیا جہاں امریکی فوج نے یہ نظام تعینات کیا تجا۔ امریکی کرنل ویڈ جیرمین نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ مشترکہ مشق، سخت اور حقیقت پسندانہ تربیت فراہم کرتی ہے۔ اْنہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اِس بات کو یقینی بنائے گی کہ وہ ضرورت پڑنے پر لڑائی کے لیے تیار ہیں۔اْن کا مزید کہنا تھا کہ یہ مشق ایک ائر اسٹیشن اور اواکوانی کی بندرگاہ پر ٹائیفون کی جانچ کرنے کا ایک موقع ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مار کرنے والے تک مار کرنے

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں