بوگیوں کی کمی مسافروں کیلیے درد سر، دوسری ٹرینوں میں ایڈجسٹ کیا جانے لگا
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
لاہور:
پاکستان ریلوے کے پاس بوگیوں کی کمی مسافروں کے لیے درد سر بن گئی، سیکڑوں مسافروں کو ریلوے اسٹیشن پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ جس ٹرین کی ٹکٹ لی اس کے بجائے دوسری ٹرین میں سفر کرنا پڑے گا۔
مسافر حیران و پریشان ہو کر ٹکٹ چیکر سے الجھنے لگتے ہیں۔ درجنوں مسافر اسی چکر میں لیٹ ہو جاتے ہیں اور پھر چلتی گاڑی میں سوار ہونا پڑتا ہے۔
ایکسپریس نیوز کو ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک دو ماہ سے پاکستان ریلوے سے سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو ریلوے اسٹیشن پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ انہیں پاک بزنس ایکسپریس، شاہ حسین ایکسپریس اور قراقرم ایکسپریس کی جگہ دوسری ٹرینوں میں سفر کرنا پڑے گا۔
پشاور اور راولپنڈی سے لاہور آکر کراچی یا کوئٹہ جانے والی اکثر ٹرینوں کے مسافروں کو ایک دوسری ٹرینوں میں ایڈجسٹ کر کے چلانے پر ریلوے انتظامیہ مجبور ہو چکی ہے جبکہ رہی سہی کسر حالیہ سلاب نے پوری کر دی۔
ریلوے ذرائع کے مطابق پاکستان ریلوے کے پاس صرف لاہور ڈویژن میں 100 سے زائد بوگیوں کی کمی ہے جس کی وجہ سے آئے روز مختلف ٹرینوں کے مسافروں کو ایک دوسری ٹرینوں میں ایڈجسٹ کر کے روانہ کیا جا رہا ہے۔
پاک بزنس ایکسپریس، شالیمار ایکسپریس، شاہ حسین، کراچی ایکسپریس اور خیبر میل کی روانگی اور آمد میں کئی کئی گھنٹوں کی تاخیر معمول بن چکی ہے جس کی وجہ سے مسافر رل گئے۔
مسافر عدیل اکبر، کامران ارشاد اور وسیم نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو اس بات نے پریشان کیے رکھا کہ پاک بزنس کی جگہ گرین لائن میں جانا ہے جبکہ ٹکٹ پاک بزنس کی تھی، اسی طرح قراقرم کے بجائے پاک بزنس میں سفر کروایا، دوسری ٹرین دو سے تین گھنٹے تاخیر سے روانہ ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کوئی مسافر اسٹیشن پر بیوی بچوں سمیت کتنی دیر انتظار کر سکتا ہے، خاص طور پر بچوں کے ساتھ جو ہر تھوڑی دیر بعد کھانے پینے کی اشیاء مانگ لیتے ہیں جن کی قیمتیں ویسے ہی اسٹیشن پر آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی ہیں، فیملی ہالز اچھے ہیں مگر کئی کئی گھنٹے انتظار نہیں ہوتا۔
اس حوالے سے جب ریلوے انتظامیہ سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کی صورتحال کے باعث کچھ ٹرینیں تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ جن ٹرینوں کو منسوخ کیا گیا ان ٹرینوں کے مسافروں کو بروقت دوسری ٹرینوں میں ایڈجسٹ کیا گیا، کوشش کر رہے ہیں کہ ٹرینیں بروقت روانہ ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دوسری ٹرینوں میں ایڈجسٹ مسافروں کو پاک بزنس
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔