چین کا یورپی یونین پر ’ٹکراؤ کو ہوا دینے‘ کا الزام اور حقیقت تسلیم کرنیکی کی تنبیہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکُن نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کجّا کلس کے حالیہ بیانات نظریاتی تعصب پر مبنی اور کھلے عام تصادم کو ہوا دینے والے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:چین کی فوجی پریڈ متاثر کن تھی، صدر شی کی تقریر میں امریکا کا ذکر ہونا چاہیے تھا، ٹرمپ کا شکوہ
یاد رہے کہ بدھ (3 دسمبر)کے روز روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چینی صدر شی جن پنگ، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ چین کے شہر تیانجن میں ایک فوجی پریڈ میں شرکت کی۔
یہ پریڈ دوسری جنگِ عظیم میں جاپان کی شکست کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوئی۔
When asked to comment on US President Donald Trump's claim about the Chinese, Russian and North Korean leaders "conspiring against the US" on the occasion of China's V-Day commemorations on September 3, the Chinese Foreign Ministry spokesperson Guo Jiakun said on Thursday that… pic.
— Global Times (@globaltimesnews) September 4, 2025
بعد ازاں برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کلس نے اس اجلاس کو ’قواعد پر مبنی عالمی نظام کے لیے براہِ راست چیلنج‘ قرار دیا اور یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ اس ’نئی حقیقت‘ کا سامنا کرے۔
جمعرات کو بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران گو جیاکُن نے کہا کہ کلس کے یہ بیانات دوسری جنگِ عظیم کی تاریخ کے لیے توہین آمیز اور یورپی یونین کے اپنے مفادات کے لیے نقصان دہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ یورپی یونین عہدیدار کے بیانات نظریاتی تعصب سے بھرپور ہیں، تاریخی شعور سے عاری ہیں اور کھلے عام رقابت اور محاذ آرائی کو ہوا دیتے ہیں۔ یہ انتہائی غلط اور غیر ذمہ دارانہ مؤقف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ غیر یقینی اور ہلچل سے بھرے بین الاقوامی حالات میں دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ یکجہتی اور تعاون کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فوجی پریڈ: چین نے غیرمعمولی صلاحیتوں سے آراستہ جنگی ڈرونز متعارف کرا دیے
ان کے مطابق بعض یورپی رہنما سرد جنگ کی ذہنیت اور سخت نظریاتی تعصب کے ساتھ جان بوجھ کر تقسیم اور تصادم کو ہوا دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ تیانجن اجلاس کے دوران صدر شی نے ایک نئے، زیادہ منصفانہ عالمی حکمرانی کے نظام کی تجویز پیش کی، جو باہمی احترام پر مبنی ہو اور مغربی بالادستی کی مخالفت کرتا ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے اور چند ممالک کے وضع کردہ اصول دوسروں پر مسلط نہیں کیے جانے چاہییں۔
صدر پیوٹن نے اس تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اس وقت خاص طور پر اہم ہے جب کچھ ممالک اب بھی بین الاقوامی معاملات میں آمریت کی خواہش ترک نہیں کر پا رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چین چینی ترجمان روس کجّا کلس یورپی یونین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چین چینی ترجمان کج ا کلس یورپی یونین یورپی یونین کو ہوا کے لیے
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔