سیلاب اور بارشوں سے اموات کی تعداد 900 تک پہنچ گئی، چوبیس گھنٹوں میں مزید بارشوں کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق رواں سال سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں اموات کی تعداد 907 تک پہنچ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں ایک ہزار 44 شہری زخمی ہوئے، سب سے زیادہ اموات پنجاب میں 223 ہوئی جبکہ 654 افراد زخمی ہوئے۔
اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں 502 شہری جاں بحق اور 218 زخمی جبکہ سندھ میں 58 جاں بحق، 78 زخمی اور بلوچستان میں 26 افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں بارشوں، فلش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 41 افراد جاں بحق جبکہ 52 زخمی ہوئے، آزاد کشمیر میں 38 اور اسلام آباد میں 9 افراد جاں بحق ہوئے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے 6 ہزار 180 مویشی ہلاک جبکہ 7 ہزار 848 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب این ڈی ایم اے نے جنوبی پنجاب کے متعدد علاقوں میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا الرٹ جاری کر دیا۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری الرٹ میں کہا گیا ہے کہ بہاولپور، بہاولنگر، احمدپور، لیاقت پور، ظاہر پیر، راجن پور، خان پور، مظفر گڑھ، ڈی جی خان، رحیم یار خان اور صادق آباد میں شدید بارش متوقع ہے۔
الرٹ کے مطابق مذکورہ علاقوں میں آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں تک بارش اور طوفانی ہوائیں وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ پہاڑی ندی نالے بپھرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی ہے۔
عوام سے احتیاط کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نشیبی علاقوں کے مکین احتیاط کریں، غیر ضروری سفر سے اجتناب جبکہ درختوں سے دور رہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈی ایم اے زخمی ہوئے کے مطابق
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔