وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہید کیپٹن سلمان سرور کے والد کا حوصلہ اور ان کی شہادت پر فخر
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
کیپٹن سلمان سرور شہید کا تعلق لاہور سے ہے جنہوں نے 2005 میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور 14 مئی 2013 کو خیبر میں دہستگردوں سے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
شہید نے ایف سی کے پی نارتھ میں بطور والنٹیر اپنی خدمات پیش کیں، شہید نے نہ صرف بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا بلکے انکے ناپاک عزائم کو بھی خاک میں ملاتے ہوئے وطن پے جان نچھاور کی۔
شہید کے والدین عزم و حوصلے کی ایک عظیم مثال ہیں، شہید نے بہادری سے لڑتے ہوئے زخمی ہونے کے بعد بھی اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنے جوانوں کی حفاظت کو ترجیح دی۔
والد کیپٹن سلمان سرور شہید نے کہا کہ اپنے ملک کو بچانے کے لئے جانیں دینا پڑتی ہیں اور مجھے فخر ہے کہ میرے بیٹے نے ملک کی حفاظت کی خاطر اپنی جان دی۔
ان کا کہنا تھا کہ آزادی مفت میں نہیں ملتی۔ اسکی قیمت ہم اپنی جانیں دے کے چکاتے ہیں اور آئندہ بھی خوشی خوشی ملک کی خاطر اپنی جان قربان کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔