پاک فضائیہ جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تربیت سے دفاعی صلاحیت مضبوط بنا رہی ہے، وزیر توانائی سندھ
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ 1965 کی جنگ میں پاک فضائیہ نے جرات، بہادری اور عزم و استقلال کی جو مثال قائم کی، وہ ہماری قومی تاریخ کا سنہری باب ہے۔
وزیر توانائی نے یومِ فضائیہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ مادرِ وطن کے دفاع میں پاک فضائیہ نے نہ صرف دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا بلکہ قوم کے حوصلے بھی بلند کیے۔
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ایم ایم عالم جیسے دلیر پائلٹس نے اپنی صلاحیت اور شجاعت سے دنیا کی عسکری تاریخ میں سنہری نقوش چھوڑے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں کی قربانیاں پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہیں اور ہمیں یہ یاد دہانی کراتی ہیں کہ وطن کی حفاظت سب سے مقدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ جدید ٹیکنالوجی، اعلیٰ تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنا رہی ہے۔ قوم اپنے ان شاہینوں پر فخر کرتی ہے جو ہر مشکل وقت میں ڈٹ کر وطن کے دفاع کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔
ناصر حسین شاہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاک فضائیہ
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔