Daily Sub News:
2026-06-03@04:42:43 GMT

پاکستانی فضائیہ: فخرِ ملت، فخرِ وطن

اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT

پاکستانی فضائیہ: فخرِ ملت، فخرِ وطن

پاکستانی فضائیہ: فخرِ ملت، فخرِ وطن WhatsAppFacebookTwitter 0 7 September, 2025 سب نیوز


تحریر: محمد محسن اقبال


7 ستمبر 1965 محض ایک تاریخ نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جو ہمیشہ فخر، قربانی اور فضائی بالادستی کی علامت رہے گا۔ اس دن جب بھارت نے اپنی عددی برتری کے زعم میں ہمارے وطن عزیز کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی تو پاک فضائیہ کے شاہین بے مثال عزم کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ پوری دنیا، بشمول بھارت، نے اس جرات و بہادری کا وہ منظر دیکھا جو آج بھی یادوں میں زندہ ہے۔ انہی جانبازوں میں اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم (ایم ایم عالم) کا نام سنہری حروف میں درج ہے۔ انہوں نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جو ہوابازی کی تاریخ میں معجزے سے کم نہیں تھا۔

انہوں نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پانچ بھارتی ہنٹر طیارے مار گرائے۔ یہ کارنامہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مورخین نے تسلیم کیا اور اسے جرات اور مہارت کی لازوال مثال قرار دیا۔


ان کے ساتھ ہی اسکواڈرن لیڈر سر فراز رفیقی بھی تھے، جن کی عظیم قربانی نے انہیں 1965 کی جنگ کا سب سے بڑا ہیرو بنا دیا۔ لڑائی کے دوران جب ان کی مشین گن جام ہوگئی تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنی فارمیشن کو بچانے کا فیصلہ کیا اور اپنے ساتھیوں کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی قربانی نے پوری اسکواڈرن کو کامیابی دلائی اور قوم کے لئے وفاداری کی ایک ابدی مثال قائم کر دی۔

فلائٹ لیفٹیننٹ یونس حسین نے بھی ھلواڑہ کے محاذ پر دشمن کے طیارے مار گرائے اور پھر شہادت کا رتبہ پایا۔ اسکواڈرن لیڈر منیرالدین احمد نے دشمن کی حدود میں جا کر ان کے ریڈار اور مواصلاتی نظام کو نشانہ بنایا اور دشمن کی کمر توڑ دی۔ یہ سب نام—عالم، رفیقی، حسین، منیرالدین—ہماری قومی یادداشت میں ہمیشہ زندہ ہیں اور ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ پاکستان کے محافظ عزت اور بہادری کی علامت ہیں۔


یہ شان دار روایت وقت کے ساتھ ماند نہ پڑی۔ ۷۲ فروری 2019 کو ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کا مگ 21 طیارہ مار گرایا اور اپنے اسلاف کی روایت کو تازہ کیا۔ ابھی نندن کے طیارے کے تباہ ہونے اور اس کی گرفتاری کی تصاویر بھارت کے لئے ذلت کی علامت بنیں جبکہ پاکستان اپنی فضائیہ پر فخر کرتا رہا۔


مئی 2025 میں یہ روح اور بھی زیادہ طاقت کے ساتھ زندہ ہوئی۔ اس ماہ کی سیاہ راتوں میں جب بھارت نے پاکستان کے حوصلے توڑنے کی کوشش کی تو فضائیں ایک بار پھر ہمارے طیاروں کی گرج سے گونج اٹھیں۔ آپریشن ”بنیان المرصوص”—جسے ”معرکہ حق” کہا گیا—

اس موقع پر ہوا جب جرات اور مہارت نے مل کر دشمن کو شکست دی۔ پاک فضائیہ نے چھ بھارتی طیارے مار گرائے، جن میں ان کے فخر رافیل بھی شامل تھے، اور ساتھ ہی وہ ایس-400 دفاعی نظام تباہ کیا جسے بھارت ناقابل تسخیر سمجھتا تھا۔ اس نظام کی تباہی نے نہ صرف بھارت کی حکمت عملی کو ناکام بنایا بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے شاہینوں کی مہارت اور عزم ہر ٹیکنالوجی پر بھاری ہے۔
اس آپریشن کے ہیرو وہ جانباز تھے جنہوں نے اپنے اسلاف کی روایت کو زندہ رکھا۔ ونگ کمانڈر بلال رضا، ونگ کمانڈر حماد ابن مسعود، اسکواڈرن لیڈر محمد یوسف خان، اسکواڈرن لیڈر محمد اسامہ اشفاق، اسکواڈرن لیڈر محمد حسن انیس، اسکواڈرن لیڈر طلال حسن، اسکواڈرن لیڈر فدا محمد خان اور فلائٹ لیفٹیننٹ محمد اشہاد عامر کو ان کی جرات پر ستارہ? جرات سے نوازا گیا۔ ان مجاہدین نے فولادی اعصاب کے ساتھ دشمن کے ہر حملے کو ناکام بنایا اور دنیا کو حیران کر دیا۔

قوم نے فخر کے ساتھ دیکھا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف خود کامرہ ایئربیس پہنچے اور ان ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کیا، اور اعلان کیا کہ ان کی کارکردگی نے خطے کی طاقت کا توازن بدل دیا ہے۔
8 سے 10 مئی کے دوران بھارت نے ہمارے کئی ایئربیسز—جن میں نور خان، سرگودھا، سکردو، مرید اور رفیقی شامل تھے—پر حملے کئے مگر ہمارے شاہین ان حملوں کے شعلوں سے بھی مضبوط ہو کر نکلے۔ دشمن نے ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کی مگر ہم نے انہیں انہی کی جارحیت میں ذلیل کر دیا۔ یہ محض عسکری کامیابی نہ تھی بلکہ اخلاقی اور نفسیاتی برتری بھی تھی، بالکل ویسی ہی جیسی 1965 میں دیکھنے کو ملی تھی، جب چند جانبازوں نے بڑے لشکروں کو شکست دی تھی۔
1965 سے 2019 اور 2019 سے 2025 تک یہ محض جنگوں کا سلسلہ نہیں بلکہ ایک زندہ روایت ہے جو پاک فضائیہ کے عزم و حوصلے کی علامت ہے۔ عالم کی بجلی کی مانند تیز کامیابی، رفیقی کی لازوال قربانی، نعمان علی خان کی ابھی نندن کے خلاف فتح، اور جدید شاہینوں کی رافیلز گرانے اور ایس-400 تباہ کرنے کی داستان—یہ سب کارنامے ہمارے قومی فخر کے تانے بانے میں سنہری دھاگے کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔


آج جب پاکستانی آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور شاہین کو پرواز کرتے دیکھتے ہیں تو انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے محافظ جاگ رہے ہیں۔ ان کا حوصلہ ناقابلِ شکست ہے، ان کا جنون زندہ ہے، اور ان کے دلوں میں اپنی سرزمین کے تحفظ کا غیر متزلزل ایمان ہے۔ جیسے 1965 میں تھا، جیسے 2019 میں تھا، جیسے 2025 میں تھا، ویسے ہی آنے والے وقت میں بھی ہوگا۔ ان شاء اللہ، اس سرزمین کے بیٹے اپنی فضاؤں کے محافظ رہیں گے۔ جب تک شاہین آسمان پر پرواز کرتا رہے گا، پاکستان کی فضائیں ہمیشہ آزاد، باوقار اور ناقابلِ تسخیر رہیں گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرشہر بانو نقوی ایشیا سوسائٹی فیلو شپ کیلئے منتخب پہلی پاکستانی خاتون افسر انقلابِ قرض سے آزادی: خودمختاری کے نئے باب کی جانب یوم دفاع حجاب: پاکستان کی روایت، ترکیہ کا سفر قدرتی آزمائشیں اور رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات ایس سی او تھیانجن سمٹ 2025 حضرت محمد ﷺ: تمام انسانیت کے لیے چراغِ ہدایت TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا