کرپٹو کرنسی کی اجازت: عام کرنسی کو ڈیجیٹل کرنسی میں کیسے منتقل کیا جاسکے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک بھر میں ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو کو قانونی حیثیت دینے کے لیے اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے، اسٹیٹ بینک کے مطابق ڈیجیٹل کرنسی کو قانونی قرار دے کر اس پر پابندی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا جائے گا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق حکومت نے ڈیجیٹل کرنسی اور کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت دینے کے لیے ورچوئل اثاثہ جات بل 2025 کے ذریعے ایک ورچوئل اثاثہ جات اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جو کرپٹو اثاثہ جات کی خریدو فروخت کو عالمی معیارات کے مطابق ریگولیٹ کرے گی۔ اس اتھارٹی کے قیام سے انسداد منی لانڈرنگ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کو روکنے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کا کرپٹو ریزرو: وژن سے حقیقت تک
اسٹیٹ بینک کے مطابق قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کے نفاذ کے بعد، ڈیجیٹل کرنسی جاری کی جائے گی اور کرپٹو کرنسی کے قانونی لین دین کی اجازت ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی ورچوئل کرنسی ایکسچینج بھی قائم کی جائے گی جہاں ڈیجیٹل کرنسی کی خرید و فروخت ممکن ہوگی۔
حکومت کی جانب سے ورچوئل اثاثہ جات کے لیے سروس پروائڈر کو لائسنس جاری کیے جائیں گے جس کے بعد ورچوئل کرنسی ایکسچینج قائم کی جائے گی اور اسی ورچوئل کرنسی ایکسچینج کے ذریعے ڈیجیٹل کرنسی کی خریدوفروخت ہوگی، ڈیجیٹل کرنسی کے اپنے ڈیجیٹل اکاؤنٹس ہوں گے اور اسی ورچوئل کرنسی ایکسچینج کے ذریعہ عام کرنسی کو ڈیجیٹل کرنسی میں منتقل کیا جاسکے گا، بعد ازاں ورچوئل کرنسی کی قانون سازی کے بعد اسٹیٹ بنک آف پاکستان ریگولیٹری فریم ورک تیار کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو کرنسیز سے کیسے مختلف ہوگی؟
رواں ہفتے بھی سینیٹ کمیٹی میں یہ معاملہ زیر بحث آیا تھا، کمیٹی ارکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ ڈیجیٹل کرنسی کے آ جانے کے بعد کمرشل بینکوں کا کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا جس پر کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ کرپٹو کونسل اس وقت مشاورتی ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے اور کونسل کے ذریعے تمام قانونی اور تکنیکی پہلوؤں پر کام کیا جا رہا ہے، کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ ورچوئل اثاثہ جات اتھارٹی کو خزانہ ڈویژن کے ماتحت کر دیا جائے جبکہ بل پر مزید بحث کو آئندہ اجلاس تک کے لیے موخر کر دیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی کے مستقبل کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے، اور اس سے ملک کی مالی معیشت میں نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیٹ بینک آف پاکستان اصلاحات ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو کرنسی معیشت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک ا ف پاکستان اصلاحات ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو کرنسی ورچوئل کرنسی ایکسچینج ورچوئل اثاثہ جات ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو کرنسی اسٹیٹ بینک کرنسی کے کے مطابق کرنسی کی کرنسی کو کے بعد کے لیے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔