لاہور:

پاکستانی خاتون پولیس افسر شہربانو نقوی کو شاندار اعزاز حاصل ہوگیا، ایشیا سوسائٹی 21 نیکسٹ جنریشن فیلو شپ کے لیے منتخب ہوگئیں۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق اے ایس پی شہر بانو نقوی ایشیا 21 نیکسٹ جنریشن فیلو شپ کے لیے منتخب ہونے والی پاکستان کی تاریخ کی پہلی خاتون پولیس افسر ہیں۔

ایشیا سوسائٹی نے اے ایس پی شہربانو نقوی کو کلاس آف 2025ء میں معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ، سسٹم میں تبدیلی کے حوالے سے گراں قدر کاوشوں، خدمات کے لیے منتخب کیا۔ ایشیا 21 نیکسٹ جنریشن فیلو شپ کے لیے خطے کے 27 ممالک سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے 30 افراد کی غیر معمولی کارکردگی زیرغور آئی۔

اے ایس پی شہربانو نقوی کو پاکستان بھر کی نمائندگی کرتے ہوئے ایشیا 21 نیکسٹ جنریشن فیلوشپ کے لئے منتخب کیا گیا۔

ایشیا 21 نیکسٹ جنریشن سمٹ اسی سال 5 تا 7 دسمبر فلپائن کے شہر منیلا میں منعقد ہوگی، جس میں منتخب کیے گئے خواتین اور مرد  معاشرے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کریں گے۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے اے ایس پی شہربانو نقوی کو دنیا بھر میں پاکستان اور پنجاب پولیس کا نام روشن کرنے پر مبارکباد دی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کے افسران کی کارکردگی کی عالمی سطح پر پذیرائی پاکستان پولیس سروس کیلئے فخر کی بات ہے، اے ایس پی شہربانو نقوی جیسی باصلاحیت افسران مستقبل میں پولیس لیڈر شپ کیلئے اہم کردار ادا کریں گی۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ایشیا سوسائٹی خطے میں سماجی خدمات کے شعبے میں نوجوان لیڈرز کے اہم کردار کے حوالے سے وسیع، موثر اور پروفیشنل تنظیم ہے، سوسائٹی ایشیا بھر سے ہر سال اپنے اپنے شعبوں میں تعمیر و ترقی، قائدانہ کردار کے مالک افراد کا انتخاب کرتی ہے، ایشیا سوسائٹی خطے میں مختلف کمیونٹی کے لوگوں کے تحفظ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے نظریہ پر کاربند ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اے ایس پی شہربانو نقوی ایشیا 21 نیکسٹ جنریشن شہربانو نقوی کو ایشیا سوسائٹی پنجاب پولیس لیے منتخب فیلو شپ کے لیے

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ