چیف جسٹس کا رواں عدالتی سال میں تمام کورٹس کو سولر توانائی پر منتقل کرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 8 September, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی نظام میں اصلاحات لارہے ہیں، نظام انصاف میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ہونا چاہیے مگر ہم ابھی تیار نہیں، مقدمات کو جلد نمٹانا ترجیح ہونی چاہیے، گزشتہ سال کی نسبت زیر التوا مقدمات میں کمی آئی، عدالتی نظام میں شفافیت اور آسانیوں سے سائلین کو انصاف ملے گا، عہدہ سنبھالتے ہی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی، اندرونی آڈٹ بھی کروایا، ایک دن میں رولز نہیں بن سکتے جب کہ چیف جسٹس نے رواں عدالتی سال میں تمام کورٹس کو سولر توانائی پر منتقل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں سالانہ چھٹیوں کے بعد نئے عدالتی سال کے موقع پر جوڈیشل کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے ججز کے ساتھ ساتھ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدے داران نے شرکت کی۔سپریم کورٹ میں جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی نے کہا کہ نئے عدالتی سال کی اس تقریب کا آغاز 1970 کی دہائی میں ہوا جب کہ 2004 سے اس تقریب کو باقاعدگی سے منانا شروع کیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیشہ قانون کی بالادستی کے لیے کام کیا، عدالتی نظام میں شفافیت اور آسانیوں سے سائلین کو انصاف ملے گا، ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے عدالتی نظام کو مثر بنایا جارہا ہے، مقدمات کو جلد نمٹانا ترجیح ہونی چاہیے، یہ موقع ہوتا ہے کہ ہم سب اپنی کارکردگی پرنگاہ ڈالیں، عہدہ سنبھالنے کے بعد اصلاحات کی ضرورت محسوس کی، ہم نے 5 بنیادوں پر اصلاحات شروع کیں۔جسٹس یحیی آفریدی کے بقول سپریم کورٹ میں اینٹی کرپشن ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے، عوامی رائے کے لیے خصوصی پورٹل بھی فعال کیا گیا ہے، وکلا سے متعلقہ تمام معلومات سہولت مرکز میں دستیاب ہوں گی، سہولت مرکز میں معلومات دفتری کام متاثر کیے بغیر مہیا کی جائیں گی، سہولت مرکز کا آج افتتاح ہوگا اور یہ یکم اکتوبر سے مکمل فعال ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں میں ڈیجیٹل کیس فائلنگ کا نظام وضع کیا گیا ہے اور عدالتوں میں ای سروسز کا آغاز کیا جا چکا ہے، نظام عدل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال ہونا چاہیے، اس کے لیے ابھی فوری طور پر تیار نہیں ہیں، آج اعلان کر رہا ہوں کہ ہم نے اندرونی آڈٹ بھی کروایا ہے، رولز کو ایک دن میں نہیں بنایا جاسکتا، پروپوزلز کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں گے، کمیٹی جو تجویز کرے گی اس کے مطابق آگے چلیں گے۔آخر میں چیف جسٹس یحیی آفریدی نے رواں عدالتی سال میں تمام کورٹس کو سولر توانائی پر متنقل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔اس موقع پر اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے بھی جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے تقاضوں کو پورا کرنا آئین کی خوبصورتی ہے، آئین اور قانون کی پاسداری سے شفافیت ممکن ہے، انصاف کی فوری فراہمی عدلیہ کی اولین ترجیح رہی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کی زیر صدارت سیلابی صورتحال پر اجلاس، امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت وزیراعظم کی زیر صدارت سیلابی صورتحال پر اجلاس، امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت سپریم کورٹ کے چار ججز کا چیف جسٹس کو خط، عدالتی رولز کی سرکولیشن کے ذریعے منظور پر تحفظات زیڈ کے بی کا ملک گیر مشن: صحت، تعلیم اور روزگار کی مفت فراہمی کا اعلان ہائیکورٹ کا سی ڈی اے انتظامیہ کے خلاف بڑا حکم، آفیسران کی پروموشن سے روک دیا، تفصیلات سب نیوز پر عمران خان کیخلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا کیس، عدالت نے وزیراعظم کو 12 ستمبر کو طلب کرلیا تارکینِ وطن ہمارا فخر ہیں، اوورسیز مسائل کا حل مسلم لیگ (ن) کی ترجیح ہے: چوہدری جعفر اقبال TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: چیف جسٹس کرنے کا

پڑھیں:

شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے وکالت شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 50 سال بعد زندگی گزارنے کے بعد راولپنڈی بار نے میری ممبر شپ بحال کر دی. 50 سال بعد بار کا تاحیات ممبر بن گیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہو گی کہ سچائی، قانون اور ملک کی بہتری کے لئے کام کروں. غریب آدمی کے لئے قانونی، عملی اور عملی خدمت کروں گا۔

واضح رہے شیخ رشید نے سردار رزاق چیمبر کے ذریعے ڈسٹرکٹ بار روالپنؔڈی میں اپنی رکنیت بحالی کی درخواست دائر کر دی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا خراب کارکردگی کے حامل فیلڈ افسران کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کا حکم
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا