عدالت عظمیٰ کے 4ججز کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط، سپریم کورٹ رولز منظوری کے طریقہ کار پرتحفظات کااظہار
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ کے 4ججز نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط میں سپریم کورٹ رولز منظوری کے طریقہ کار پرتحفظات کااظہار کر دیا۔
نجی ٹی وی چینل کے مطابق سپریم کورٹ کے 4ججز نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھا ہے،خط لکھنے والوں میں جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس منیب اختر، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں،خط میں سپریم کورٹ رولز سرکولیشن کے ذریعے منظور کرنے پر تحفظات کااظہار کیا گیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ رولز منظوری کیلئے کبھی فل کورٹ کے سامنے نہیں رکھے گئے،ایجنڈے میں نئے رولز سے پیدا مشکلات کے خاتمے کا ذکر ہے،بنیادی اعتراض دور ہونے تک اس میٹنگ میں شرکت کا فائدہ نہیں، خط میں مزید کہا گیا ہے کہ رولز 9اگست کے روز پہلے ہی نوٹیفائی ہو چکے،خط کو فل کورٹ میٹنگ منٹس کا حصہ بنایا جائے۔
Post Views: 9.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔