سپریم کورٹ کے نئے سال کا آغازآج جوڈیشل کانفرنس سے ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ کی عدالتی چھٹیاں ختم ہوگئی ہیں، آج سے نئے عدالتی سال کا آغاز ہوگا، آج صبح ساڑھے 9 بجے نئے عدالتی سال کے حوالے سے جوڈیشل کانفرس ہوگی۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی خطاب کریں گے، ساڑھے 10بجے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی فیسیلیٹیشن سینٹر کا افتتاح کریں گے، ساڑھے 11بجے سے ایک بجے آئینی بینچ سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کرے گا۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5رکنی آئینی بینچ سماعت کرے گا، آئینی بینچ کے سامنے سپر ٹیکس سے متعلق 1250 درخواستیں سماعت کیلیے مقرر ہیں۔
آج دن ایک بجے انتظامی سائیڈ پر فل کورٹ کا اجلاس ہو گا، چیف جسٹس یحیی آفریدی فل کورٹ اجلاس کی صدارت کریں گے، فل کورٹ میں سپریم کورٹ رولز 2025 سے متعلق سپریم کورٹ بار کی تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کا آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری کردیا گیا ہے،آئندہ ہفتے پرنسپل سیٹ پر نو بینچز تشکیل دیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔